سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 382 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 382

با قاعدہ تہجد پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ سو فیصدی تہجد گزار ہوں الا ماشاء اللہ سواتے الیسی کسی صورت کے کہ وہ مجبوری کی وجہ سے ادا نہ کرسکیں اور خدا تعالیٰ کے حضور ایسے معذور ہوں کہ اگر فرض نماز بھی جماعت کے ساتھ ادا نہ کر سکیں تو قابل معافی ہوں " الفضل 2 جولاتی ۱۹۴۳-) سات مراکتہ قائم کرنے کی تحریک : تبلیغ اسلام کو زیادہ منظم و موثر طور پر کرنے کے لیے حضور نے ہندوستان کے مندرجہ ذیل سات اہم شہروں میں مساجد تعمیر کرنے اور تبلیغی مراکز قائم کرنے کی تحریک فرمائی۔کراچی۔مدراس بمبئی - کلکتہ۔دہلی - لاہور - پشاور (الفضل راگست ۱۹۳۳ ) ۴ یہ تو ابتدا تھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ان سات شہروں کے علاوہ اور بھی قریباً ہر شہر اور قصبہ میں ایسے مراکز قائم ہو چکے ہیں جہاں جماعت کے قیام کے الہی اغراض و مقاصد کے حصول کی خاطر مخلصین جماعت بڑی توجہ اور محنت سے سرگرم عمل ہیں۔مستورات کے حقوق کی ادائیگی اور ان کی بہتر تعلیم و تربیت کے متعلق حضور پہلے تحریک فرما چکے تھے تاہم ایک سے زیادہ بیویوں کی صورت میں ہمارے معاشرہ میں بالعموم افسوسناک صورت حال سامنے آتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف بھی توجہ دلانے کی صورت فرمائی اور حضور نے رویاء میں دیکھا کہ کوئی احمدی دوست ہیں جن کی دو بیویاں ہیں اور ان کے ساتھ انصاف سے معاملہ نہیں کرتے اور حضور کی زبان پر مندرجہ ذیل الفاظ جاری ہوتے۔"آؤ اس فلم کو مٹا دیں" حضور نے ایک مجلس میں یہ رویا سنانے کے بعد فرمایا : " ہماری جماعت کے دوستوں کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیئے۔جہاں انہیں کوئی ایسا واقعہ نظر آئے اور دیکھیں کہ ظلم ہو رہا ہے تو اس آدمی کو مجبور کریں کہ وہ انصاف کرے یا جائز طور پر ایک کو طلاق دیدے۔۔۔۔۔۔۔جو شخص احکام شریعت کی اس طرح اعلانیہ خلاف ورزی کرتا ہے وہ قیامت کے دن آدھا اُٹھایا جائے گا۔الفضل ۳۱ اگست ۱۹۴۳ )