سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 381 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 381

حضرت مسیح ناصری نے کہا تھا وہ اپنے پاؤں سے خاک جھاڑ کر آگے نکل جائیں تو یں سمجھتا ہوں تبلیغ کا سوال ایک دن میں حل ہو جاتے۔حلف الفضول : ) الفضل ۱۲۱ دسمبر ۹۲ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل مظلوموں کی حمایت اور انہیں ان کا حق دلوانے کے لیے ایک معاہدہ ہوا جو تاریخ میں حلف الفضول کے نام سے مشہور ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس میں شامل ہوتے اور اس معاہدہ کی روح پر مدت العمر عمل پیرا رہے۔حضرت مصلح موعود نے بھی احباب جماعت کو اس نہایت اہم تحریک کی طرف بڑا یا۔آپ فرماتے ہیں۔" جو لوگ اس میں شامل ہونا چاہیں ان کے لیے لازمی ہے کہ سات دن تک متواتر اور بلاناغہ استخارہ کریں۔عشاء کی نماز کے بعد دو نفل الگ پڑھ کر دعا کریں کہ اسے خُدا اگر میں اسکو نباہ سکوں گا تو مجھے اس میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرما۔ایک اور شرط یہ ہوگی کہ ایسا شخص خواہ امام الصلوۃ کے ساتھ اسے ذاتی طور پر کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو مرکزی حکم کے بغیر اس کے پیچھے نماز پڑھنا ترک نہ کریگا اور اپنے کسی بھائی سے خواہ اسے شدید تکلیف بھی کیوں نہ پہنچی ہو اس سے بات چیت کرنا ترک نہ کرے گا۔اور اگر وہ دعوت کرے تو اسے رد نہ کرے گا۔ایک اور شرط یہ ہے کہ سلسلہ کی طرف سے اسے جو سزا دی جائے گی اسے یہ بخوشی برداشت کرے گا اور ایک یہ کہ اس کام میں نفسانیت اور ذاتی نفع نقصان کے خیالات کو نظر انداز کر دیگا۔“ الفضل یکم جنوری ۱۹۴۵ ) الفضل گیارہ جون ۹۵ہ کے مطابق وہ خوش نصیب مخلصین جو اس بابرکت تحریک میں شامل ہوتے ان کی تعداد ۱۷۷ تک پہنچ چکی تھی۔نماز تہجد پڑھنے کی تحریک :- ذکر الہی۔نوافل اور نماز تہجد کی ادائیگی کی تحریک حضور ہمیشہ ہی فرماتے تھے۔اس بابرکت دور میں نوجوانوں کو خصوصیت سے اس طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور نے فرمایا : " خدام کا فرض ہے کہ کوشش کریں سو فیصدی نوجوان نماز تحیر کے عادی ہوں یہ ان کا اصل کام ہو گا جس سے سمجھا جائے گا کہ دینی روح ہمارے نوجوانوں میں پیدا ہوگئی ہے " نماز تہجد کے فوائد بیان کرنے کے بعد حضور نے فرمایا :