سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 358
۳۵۸ غیروں پہ براثر :- معلمین سے صرف اپنے ہی متاثر نہیں بلکہ جیسا کہ ایک جماعت کے صدر تحریر فرماتے ہیں :- " غیر از جماعت احباب پر بھی معلم صاحب کا نیک اثر ہے اور دلی محبت سے لوگ ان کی عزت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔گفتگو میں غیروں کے ساتھ بڑی حکمت اور سمجھ سے بات کرتے ہیں اور حسن سلوک سے پیش آتے ہیں اور محبت اور پیار سے تبلیغ کرتے ہیں اور اسی وجہ سے علاقہ میں ان کا اثر ہے۔بعض غیر احمدی یہ اظہار کرتے ہیں کہ ان کو خاص ایسی ٹریننگ دی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ ایسے اخلاق ظاہر کرتے ہیں ؟ " خاص ایسی ٹرینینگ تو کیا دی جاتی ہے یہ محض حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپکے بزرگ خلفا کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ٹھیکریوں سے بھی کام لے رہا ہے۔یہ محض دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احیائے نو کے لیے ان کی پُر درد تڑپ کا اثر ہے جس نے سینکڑوں غلاموں کے قلوب کو بھی اسی جذبے سے گرما دیا ہے اور وہ تنگی اور ترشی، دکھوں اور تکلیفوں میں دنیاوی سود و زیاں سے بے نیاز ہو کر اپنا تن من دھن اس راہ میں فدا کر رہے ہیں۔کم علمی اور کم مائیگی ان کی راہ میں حائل نہیں ہوتیں۔کیونکہ خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں محض پاک نیتوں اور پُر خلوص حسب توفیق جد وجہد کی قیمت ہے اور وہ خوب جانتے ہیں کہ ان کے تہی دامنوں کو خدا تعالیٰ کا فضل چوٹی تک بھر دے گا اور ان کے سب خالی خانے کناروں تک اس کی رحمت سے لبریز ہو جائیں گے۔پس وقف جدید کو اگر آج حقیقی اسلام یعنی احمدیت کی کچھ خدمت کی توفیق مل رہی ہے تو کسی انسانی کوشش یا تدبیر کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کا ایک چھینٹا ہے اور اس تائید آسمانی کی ایک جھلک ہے، جو مصلح موعود اور آپ کی جاری کردہ تمام نیک تحریکات کو حاصل تھی اور ہے اور رہے گی۔یہ اسی آسمانی پانی کا کرشمہ ہے کہ آج ہم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کھیتیوں کو جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آنسوؤں بلکہ خون سے سینچا تھا پھر سے ہرا بھرا ہوتے اور لہلہاتے ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ایک ایسا روحانی انقلاب برپا ہو رہا ہے جس کی ترجمانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر ہی کر سکتا ہے سے بہار آتی ہے اس وقت خنداں میں کھلے ہیں پھول میرے بوستاں میں پس اسے مخلصین جماعت کہ جن کی مالی اور جانی قربانیاں اپنے رب کے حضور مقبول ہو رہی ہیں