سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 359 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 359

۳۵۹ کچھ اور آگے قدم بڑھاؤ اور ان قربانیوں کی رفتار کو تیز تر کر دو۔اگر اپنی جانیں پیش کرنے کی ہمت اور توفیقی پاتے ہو تو خلوص کی طشتریوں میں سجا کر اپنی جانیں رب العزت کے حضور پیش کرو تاکہ ان واقفین زندگی کی صف میں شمار کئے جاؤ جن کے نام تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور جن کے کاموں کو ابد الآباد تک مرنے نہیں دیا جائے گا۔لیکن اگر ابھی اتنی ہمت اور توفیق نہیں پاتے تو مالی قربانی کے میدان میں قدم مارو اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اعلانیہ بھی مال نچھاور کرو اور خفیہ تھی۔لاکھوں پر خوش نہ ہو کہ تمہاری توفیق اور استطاعت کے ساتھ ضروریاتِ دینیہ بھی بڑھتی جاتی ہیں۔آج دین اسلام کو اپنی اشاعت کے لیے لاکھوں نہیں کروڑوں بلکہ اربوں روپے کی ضرورت ہے۔آج ضرورت ہے لاکھوں ایسے فدائیان اسلام کی جن کا دنیا کمانے سے مقصد سوائے اس کے کچھ اور نہ ہو کہ وہ اپنے اموال کو دین اور بنی نوع انسان کی خدمت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ بڑھ کر خرچ کریں۔آج ضرورت ہے کہ ہم میں سے وہ نور الدین پیدا ہوں جو اپنی جانی اور مالی قربانی میں صدیقیت کے نمونے پیچھے چھوڑ گئے اور امام وقت کے حضور یوں کمال فدائیت کے ساتھ اپنا سب کچھ پیش کر دیا۔اگر اجازت ہو تو نوکری سے استعفیٰ دے دوں اور دن رات خدمت عالی میں پڑا رہوں۔یا اگر حکم ہو تو اس تعلق کو چھوڑ کر دنیا میں پھروں اور لوگوں کو دین حق کی طرف بلاؤں اور اسی راہ میں جان دوں میں آپ پر قربان ہوں۔میرا جو کچھ ہے میرا نہیں آپ کا ہے۔حضرت پیر و مرشد ! میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جاتے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔مجھے آپ سے نسبت فاروقی ہے اور سب کچھ اس راہ میں فدا کرنے کے لیے تیار ہوں۔دُعا وا فرماویں میری موت صدیقیت کی موت ہو " اسے صدیق تجھ پر سلام کہ تیری دُعائیں قبول اور تیری قربانیاں بارگاہ عزت میں مقبول ہوئیں اور خود امام وقت نے مجھے ان قابل صدر شک الفاظ میں یاد کیا کہ : " خدا تعالیٰ نے اپنے خاص احسان سے یہ صدق سے بھری ہوئی رو میں مجھے عطا کی ہیں۔سب سے پہلے میں اپنے ایک روحانی بھائی کے ذکر کے لیے دل میں جوش پاتا ہوں جن کا نام ان کے نورِ اخلاص کی طرح نور دین ہے۔۔۔۔۔اور میں تجربہ سے نہ صرف حسن ظن سے یہ علم صحیح واقعی رکھتا ہوں کہ انہیں میری راہ میں مال کیا بلکہ جان اور عربت