سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 356
۳۵۶ جب معلم پہلے دن یہاں ہمارے گاؤں میں تشریف لائے تو ان کو اکیلے ہی نماز اداکرنی پڑی۔احمدی احباب کے گھروں میں جانا اور نماز کی طرف توجہ دلانا اور نماز ہے جماعت اور باجماعت کے متعلق تقریر کرنا اور اُن کے مُردہ شعور کو زندہ کرنے کے لیے کئی کئی گھنٹے وقت صرف کرنا پڑا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج تمام مرد پانچ وقت نمازوں میں برابر شریک ہوتے اور نماز با جماعت ادا کرتے ہیں اور ہماری عورت میں بھی گھروں پر باقاعدہ نماز ادا کرتی ہیں۔نماز تہجد کا شعور پیدا ہو چکا ہے " : دینی تعلیم : محض نماز با جماعت کے قیام تک ہی معلمین کی سرگرمیاں محدود نہیں بلکہ نماز ناظرہ یاد کروانا ، نمازہ کا ترجمہ سکھانا، قرآن کریم کی سورتیں حفظ کروانا اور دیگر دینی مسائل کی تعلیم دیگر ان کے ایمان اور عمل کو زیور علم سے آراستہ کرنابھی معلم کے فرائض میں داخل ہے معلمین کی اپنی نیک کوششوں سے متاثر ہو کر مختلف صدر صاحبان ہمیں اپنی خوشنودی سے مطلع فرماتے رہتے ہیں۔مثلاً ایک جماعت کے صدر لکھتے ہیں :- معلم نے ساری جماعت کی نماز درست کروائی ہے اور خاص کر بچوں کی نماز کی درستگی کی ہے۔جماعت کے تمام افراد کو نماز یا ترجمہ یاد کروائی ہے اور نماز سے متعلق تمام مسائل بھی یاد کرواتے ہیں اور قرآنی دعائیں بھی یاد کراتی ہیں۔ترجمہ قرآن کریم سکھایا جا رہا ہے اور دوسرے پارہ تک قرآن مجید کا ترجمہ مردوں اور عورتوں اور بچوں نے پڑھ لیا ہے" ایک اور جماعت کے صدر صاحب اعداد و شمار میں معلم کے کام کی رپورٹ دیتے ہوتے لکھتے ہیں، " معلم کی کوشش سے ۱۴ مرد ، ۱۲ عور تیں اور ۲۲ بچے نماز سیکھ چکے ہیں اور ا مرد ۸ عورتیں اور ۹ بیچے نماز کا ترجمہ سیکھ رہے ہیں " صدر صاحبان کی طرف سے ایسی متعدد سندات ہر سال دفتر وقعت جدید کو موصول ہوتی ہیں لیکن طوالت کے خوف سے سب کا ذکر ممکن نہیں۔آخر پر صرف ایک پسماندہ جماعت کے صدر صاحب کے مندرجہ ذیل الفاظ پیش خدمت کرنے کے بعد یہ ذکر بند کرتا ہوں۔نمانہ کے متعلق گزارش ہے کہ ہم سیاڑ کے رہنے والے ہیں اور ہم میں سے کسی ایک کو بھی نمازہ صحیح یاد نہیں تھی اور بچوں کو بالکل آتی نہ تھی لیکن اب معلم کی کوشش سے سال رواں میں نمازہ ناظرہ کے علاوہ مسجد میں آنے جانے کی دعائیں، نماز کی نیت ، اذان کے