سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 344
واقع ہو چکا ہے۔یہ لوگ ایسے نہیں کہ جماعت ان کی قربانیوں کے واقعات کو تسلیم کرنے سے انکار کر سکے۔میں قربانیوں کے واقعات کو تسلیم کرنے کی بجائے " ان کے احسانات کو تسلیم کرنے کے الفاظ استعمال کرنے لگا تھا مگر پھر میں نے لفظ احسان اپنی زبان سے ہیں نکالا کیونکہ دین کے لیے قربانی کرنا ہر مومن کا فرض ہے اسی لیے میں نے کہا ہے کہ جماعت ان لوگوں کی قربانیوں کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کرسکتی، لیکن بہر حال اس میں کیا شبہ ہے کہ جو کام یہ لوگ کر رہے ہیں وہ ساری جماعت کا ہے اور اس لحاظ سے جماعت کے ہر فرد کو اپنی دعاؤں میں ان مبلغین کو یاد رکھنا چاہیئے ؟ ) الفضل حکیم اکتوبر ۱۹۳۷ ) ایک واقعت زندگی کی میدان جہاد میں وفات کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا۔حافظ جمال احمد صاحب کی وفات اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان نشان ہے جب حافظ صاحب کو تبلیغ کے لیے ماریشس روانہ کیا گیا تو جماعت کی مالی حالت نہایت کمزور تھی روانہ ہونے سے پہلے انہوں نے درخواست کی کہ انہیں بیوی اور بچوں کو بھی ماریشس ساتھ لے جانے کی اجازت دی جائے۔کیونکہ ان کے خاندانی حالات اس کے مقتضنی تھے۔ان کی درخواست منظور تو کر لی گئی مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ زندگی بھر اپنے وطن واپس نہیں آئیں گے۔۔۔کافی مدت ماریشیس میں رہنے کے بعد۔۔۔۔۔۔ربوہ کے قیام پر ان کو اجازت دیدی۔گتی تا کہ وہ نئے مرکز کی زیارت کر سکیں۔لیکن تقدیر الٹی دیکھتے کہ وہ پاکستان روانہ ہونے سے بیشتر ہی ماریشیس میں وفات پاگئے۔گویا اس طرح ان کا وہ عمد کہ وہ زندگی بھروٹن کا منہ نہ دیکھیں گے پورا ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ زمین مبارک ہے جس میں الیسا اولوالعزم اور پارسا انسان مدفون ہوا اگر چہ آپ نے مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ نہیں پایا تھا مگر آپ بہت ابتدائی ایمان لانے والوں میں سے تھے" ) الفضل ، ار جنوری له ) خدا کی راہ میں موت کو حقیقی زندگی قرار دیتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔جب تحریک جدید کے خطبات کا سلسلہ میں نے شروع کیا تو۔۔۔۔۔قادیان کے بعض منافق کہنے لگ گئے کہ اب تو گورنمنٹ سے لڑائی شروع کر دی گئی ہے۔بھلا