سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 345 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 345

۳۴۵ گورنمنٹ کا اور ہمارا کیا مقابلہ ہے۔ان کی اتنی بات تو صحیح ہے کہ گورنمنٹ کا اور ہمارا کیا مقابلہ ہے مگر اس لحاظ سے نہیں کہ گورنمنٹ بڑی ہے اور ہم چھوٹے ، بلکہ اس لحاظ سے کہ ہم بڑے ہیں اور گورنمنٹ چھوٹی۔اگر ہم خدا تعالیٰ کی طرف سے کھڑے کئے گئے ہیں اور یقینا اسی کی اور طرف سے کھڑے کئے گئے ہیں تو پھر اگر ہم مربھی جائیں تو ہماری موت موت نہیں بلکہ زندگی ہے۔اللہ تعالی کی جماعتیں کبھی مرا نہیں کرتی۔حکومتیں مٹ جاتی ہیں، لیکن الٹی سلسلے کبھی نہیں ملتے۔حکومت زیادہ سے زیادہ بہی کرسکتی تھی کہ ہم میں سے بعض کو گرفتار کر لیتی یا بعض کو بعض الزامات میں پھانسی دے دیتی مگر کسی آدمی کے مارے جانے سے توالی سلسلہ ختم نہیں ہوتا بلکہ الی سلوں میں سے اگر ایک مرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی جگہ دی قائم مقام پیدا کر دیتا ہے۔رپورٹ مجلس مشاورت صفحه ۲۱-۲۲ شه ) تحریک جدید کا انتظام تحریک جدید کے انتظامی امور میں حضور کے ارشاد کے مطابق ابتدائی طور پر مکرم مولوی عبدالرحمن صا انور کو بطور سیکرٹری تحریک جدید بنیادی خدمات بجالانے کی توفیق علی اور اسی طرح چندوں کے انتظام کے سلسلہ میں مکرم منشی برکت علی صاحب نے نہایت محنت و جانفشانی کے ساتھ کام کیا جس کے متعلق حضور نے متعدد مرتبہ اپنے خطبات میں اظہار خوشنودی فرمایا۔یہ دونوں بزرگ کام کی لگن اور محنت کی عادت کی وجہ سے دن رات اپنے کام میں مصروف رہ کر کئی آدمیوں کے برابر کام کرتے رہے۔بعد میں جیسے جیسے کام بڑھتا گیا کارکنوں میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔شاہ میں حضور نے تحریک جدید کا دستور العمل تجویز فرمایا اور مندرجہ ذیل دفاتر قائم فرمائے : وکالت دیوان • وکالت تبشیر • وکالت مال • وکالت تعلیم۔وکالت تجارت و صنعت وکالت قانون • وکالت اشاعت و تصنیف وکالت جائیداد ابتداء میں مجلس شوری میں تحریک جدید کا الگ بجٹ پیش نہیں ہوتا تھا۔12 ایہ سے تحریک جدید کا الگ بجٹ پیش ہونا شروع ہوا۔قادیان میں تحریک جدید کے دفاتر کے لیے کوئی الگ عمارت نہیں تھی بلکہ بعض پرانی عمارتوں اور دفاتر میں ہی کام چلایا جاتا تھا۔مگر کام اس طرح ترقی کرتا چلا گیا کہ د یو میں تحریک جدید کے شاندار وسیع دفاتر تعمیر ہوئے حضور نے ان دفاتر کی اس رمتی نشا کو بنیاد رکھی اور عمارت مکمل ہونے پر ۱۹ نومبر 2 کو دُعاؤں اور نصائح کے ساتھ افتتاح فرمایا۔