سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 343 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 343

کی خدمت کے لیے آگے بڑھیں اور دیوانہ وار اپنی بڑی اور چھوٹی قربانی کو خدا تعالیٰ کے قدموں میں لاڈالیں اور اپنے ایمان کا کھلا ثبوت دے کر دشمن کو شرمندہ کریں اور اس کی منسی کو رونے سے بدل دیں اور نہ صرف یہ (مالی) قربانی کریں بلکہ دوسرے مطالبات جو جانی اور وقتی قربانیوں سے تعلق رکھتے ہیں ان میں دل کھول کر حصہ لیں۔اللہم یا رب آمین : الفضل وار نومبر ۹۳ وقف کی حقیقت و عظمت پر روشنی ڈالتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :۔سب سے پہلی بات جس کی طرف میںتوجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے زندگیاں وقف کی ہیں ان میں سے بعض کے متعلق یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ وہ ----- انٹرویو کے لیے قادیان پہنچ جائیں تاکہ ان کے متعلق یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ سلسلہ ان کا وقف قبول کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔۔۔۔۔۔اگر یہ ثابت ہوا کہ ان لوگوں کو اطلاع تو مل گئی تھی مگر با وجود اطلاع مل جانے کے وہ نہیں آئے اور کم سے کم انہوں نے یہ اطلاع بھی نہیں دی کہ ہم وقت پر فلاں مجبوریوں کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکتے تو ایسے احمدی جنہوں نے اپنے آپ کو وقف کیا تھا انہیں یاد رہنا چاہیئے کہ اب ان کو انٹرویو کے لیے نہیں بلایا جائے گا بلکہ ان کو اس لیے بلایا جائے گا کہ کیوں نہ ان کو اس جرم کی بناء پر سلسلہ سے خارج کر دیا جائے ؟ اسی وقت وقت زندگی کے عہد میں بھی سنجیدگی سمجھی جاسکتی تھی جب فرض کرو قادیان ایک پہاڑی مقام پر ہوتا اور اس کے چاروں طرف برف جمی ہوئی ہوتی ہیں پ پر چلنا مشکل ہوتا مگر پھر بھی مرکز کی طرف سے اعلان ہونے پر اپنی زندگی وقف کر نیوالے پیٹوں کے بل گھٹتے ہوئے اور اپنے ناخن زمین میں گاڑتے ہوتے یہاں تک پہنچ جاتے تب بے شک ان کو مومن سمجھا جا سکتا تھا کہ انہوں نے اپنے عہد کو پورا کر دیا۔۔۔ر الفضل ۳۱ متی ۹۲۴۔۔۔تریک جدید کے بعض مجاہدوں کی قربانیوں کا ذکر کرنے کے بعد حضور نے فرمایا :- " ان لوگوں کی ان قربانیوں کا کم سے کم بدلہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کا ہر فرد دعائیں کرے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے اور ان کے اعزہ اور اقربا پر بھی رحم فرمائے۔میں تو سمجھتا ہوں جو احمدی مبلغین کو اپنی دعاؤں میں یاد نہیں رکھتا اس کے ایمان میں ضرور کوئی نقص ہے اور مجھے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے ایمان میں خلل