سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 248
۲۴۸ سے ہے سے میر مجھے تو کچھ آتا نہیں۔(انہیں کام کی تفصیلات سمجھا کر پوچھا تم یہ بتاؤ کہ کیا یہ آواز تم کشمیر سے زور کے ساتھ اٹھوا سکتے ہو یا نہیں ؟ شیخ محمد عبد اللہ نے جواب دیا یہ آوانہ تو نہایت شاندار طور پر اٹھا سکتا ہوں۔اس پر میں نے کہا بس آپ اس کام کے اہل ہیں اور خدا کا نام لے کر اس کو شروع کر دیں۔میں نے ان کو اخراجات کے متعلق ہدایتیں دیں کہ اس طرح دفتر بنانا چاہئیے اور وعدہ کیا کہ دفتر کے اخراجات اور دوسری ضرور ہیں جو پیدا ہوں گی ان کے اخراجات میں موتیا کرتارہ ہوں گا " حضور نے اپنے وعدہ کے مطابق آزادی کشمیر اور مسلمانوں کی امداد کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال فرمایا اس سلسلہ میں شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ صاحب کا اخباری بیان اور مولانا عبدالرحیم صاحب درد سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے نام ایک خط دلچسپی سے پڑھا جائے گا۔بسم الله الرحمن الرحيم۔نحمده ونصلى على رسوله الكريم برادران ملت -------- آل انڈیا کشمیر کیٹی نے اس وقت اپنے قیمتی مشورہ سے اعداد کرنے کے علاوہ ہماری قانونی امداد بھی کی ہے۔اور مالی امدا د بھی ہمیں صرف انہی سے پہنچی ہے اس لیے ہم برادران ملت سے پر زور اپیل اور استدعا کرتے ہیں کہ وہ اس کے فنڈز کو مضبوط کرنے کی طرف فوری توجہ فرماویں تا کہ مالی تنگی کی وجہ سے ضروری کاموں میں حرج واقع نہ ہو۔مجلس احرار نے جو تکالیف جسمانی مظلومان کشمیر کی ہمدردی میں برداشت کی ہیں ان کے ہم تہ دل سے مشکور ہیں مگر اس بات کا افسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ جماعت احرارہ کی طرف سے ہمیں مالی امداد ایک روپیہ کی بھی اس وقت ینک نہیں پہنچی۔مکرم مولا نا در و صاحب ! والسلام شیخ محمد عبدالله السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکا تها! آج میں غلام قادر کو آپ کے پاس بدیں وجہ روانہ کرتا ہوں کہ تاوہ جناب کو یاد دلاتا رہے۔ممبر شپ فارمز - رجسٹرات - رسید یک فارمز - دفتر پولیس پیڈ کے متعلق انتظام مکمل ہو سکے۔۔۔۔۔آپ وقت بتا دیجیئے کہ کب ہم لاہور آئیں گے۔میرا خیال ہے کہ دستور اساسی مکمل ہو۔تاہم کام کو شروع کرتے۔۔میری