سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 249 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 249

بت ۲۴۹ طرف سے جناب حضرت صاحب کو دست بستہ عرض سلام۔آپ کا شیخ محمد عبد الله تاریخ احمدیت جلد ششم صفحه ۴۸۸ تا ۴۹۲ ) کشمیر کمیٹی کی خدمات : کشمیر کیٹی کی خدمات اور کارناموں کا اجمالی تذکرہ حضور کے الفاظ میں بیان ہو چکا ہے اس کی تفصیل کے لیے تو ایک الگ کتاب کی ضرورت ہے۔ڈوگرہ حکومت نے اس کمیٹی کے ذریعہ سارے ہندوستان میں ہی نہیں انگلستان میں بھی نہایت منظم و موثر طریقی پر کام شروع ہوتے دیکھکر اپنی حکومت کو آخری سنبھالا دینے کے لیے مظالم کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا۔مسلمانوں پر پہلے سے بھی زیادہ سختیاں شروع کر دیں۔جلسے اور جلوس بزور بند کئے گئے۔معززین پر غلط مقدمات قائم کر کے انہیں خوف و ہراس میں مبتلا کیا گیا۔مگر ڈوگرہ حکومت کو بہت جلد یہ معلوم ہوگیا کہ ان کا مقابلہ عام سیاسی لیڈروں اور کانگریسی مسلمانوں سے نہیں بلکہ ایک با اصول اولو العزم متوکل علی اللہ انسان سے ہے جس کے ساتھ سرفروشوں کی ایک ایسی جماعت ہے جو اس کے ایک اشارہ پر اپنا سب کچھ قربان کر دینا اپنے لیے سعادت سمجھتی ہے۔جماعت نے حضور کے ارشاد کی تعمیل میں مسلمانان کشمیر کی خدمت کے لیے دل کھول کر چندہ دیا جماعت کے چوٹی کے وکلا نے ریاست میں جاکر مقدمات کی بلا اجرت و معاوضہ پیروی کی۔ذہین طلبہ کی اعلیٰ تعلیم کا انتظام کیا۔ویسے تو جماعت کا ہر فرد ہی کسی نہ کسی رنگ میں اس خدمت میں شامل تھا مگر جن لوگوں کو اس میں نمایاں کام کرنے کا موقعہ ملا ان میں سے بعض کے اسماسہ درج ذیل ہیں :۔حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب در در ایم اے حضرت مولانا جلال الدین صاحب تشمت حضرت خانصاحب فرزند علی خانصاحب حضرت ملک غلام فرید صاحب مکرم خواجہ غلام نبی صاحب گل کاراتور مکرم خواجہ عبدالغفار صاحب ڈار مکرم مولوی عبدالواحد صاحب مدیر اصلاح (حضور کے ارشاد پر ساری ریاست کا دورہ کیا اور اپنے اخبار کے ذریعہ نہایت گرانقدر کام کیا۔ہمارے و کلام میں جن کو وہاں خدمت کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ان میں سے بعض پیر سے مکرم شیخ بشیر احمد صاحب مکرم چوہدری اسداللہ خان صاحب مکرم شیخ محمداحمد صاحب مظهر مکرم چوہدری یوسف خان صاحب - مکرم چوہدری عزیز احمد صاحب باجوہ - مکرم قاضی عبدالحمید صاحب مکرم میر محمد بخش صاحب۔ان مجاہدین نے اپنی کامیاب پریکٹس کو خیر باد کہ کر مسلسل کئی کئی ماہ تک تھے۔