سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 247
۲۴۷ پڑتی ہے۔" جب آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم ہوگئی اور میں نے یہ فیصلہ کیا کہ آل انڈیاکشمیر کمیٹی کو آزادانہ طور پر باہر کام نہیں کرنا چاہتے بلکہ کشمیر اور جموں کے لوگوں سے مل کر کام کرنا چاہیئے۔تو میں نے جموں اور کشمیر کے نمائندے قادیان بلوائے اور ان سے مشورہ لیا۔کوئی پندرہ سولہ آدمی آتے ہیں نے ان لوگوں سے پوچھا کہ کیا کوئی اور آدمی ایسا رہ تو نہیں گیا جس کا کشمیر میں اثر ہو انہوں نے کہا کہ شیخ عبداللہ ایک نوجوان ہیں جن کا نوجوان لڑکوں پر اچھا خاصہ اثر ہے۔اور وہ بول بھی سکتے ہیں اور نڈر بھی ہیں میں نے پوچھا کہ آپ لوگ ان کو کیوں ساتھ نہیں لاتے۔انہوں نے جواب دیا کہ ان کے متعلق ہمیں معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے مخفی آرڈر کئے ہوتے ہیں کہ اگر یہ ریاست سے باہر نکلیں تو پھر ان کو واپس نہ آنے دیا جائے۔مجھے جو شیخ عبداللہ کے حالات معلوم ہوئے ان سے میں نے سمجھا کہ یہ آدمی کام کا ہے۔پس کشمیر کی تحریک کی بیٹری کے متعلق ہیں نے اس وقت تک کوئی فیصلہ کرنا مناسب نہ سمجھا جب تک میں شیخ عبداللہ سے نہ مل لوں۔چنانچہ میں نے مولوی عبدالرحیم صاحب درد کو جو آل انڈیا کشمیر کیٹی کے سیکرٹری تھے اسی غرض کے لیے کشمیر بھیجوایا کہ وہ کشمیر کے حالات بھی دریافت کریں اور دوسرے اس بات کا انتظام کریں کہ شیخ عبداللہ کشمیر کی کسی سرحد پر مجھ سے مل لیں۔چنانچہ درد صاب نے اس بات کا انتظام کیا۔میں قادیان سے گڑھی حبیب اللہ گیا اور درد صاحب شیخ عبداللہ صاحب کو لیکر گڑھی حبیب اللہ آتے۔چونکہ گڑھی حبیب اللہ سرحد کشمیر پر تو واقع ہے لیکن سرحد کشمیر سے باہر۔اس لیے یہ ضروری سمجھا گیا کہ شیخ عبداللہ پر کو چھپا کر لایا جائے۔چنانچہ جب ریاست کشمیر کے کسٹم پر پہنچے تو درد صاحب نے شیخ عبداللہ صاحب کو کار کے بیچ میں لٹا دیا اور ان کے اوپر کپڑے ڈال دیتے تاکہ سٹیٹ کے افسروں کو پتہ نہ لگے اور اس طرح چھپا کہ وہ میرے پاس گڑھی حبیب اللہ کے ڈاک بنگلہ پر ان کو لاتے۔وہ میری اور شیخ عبد اللہ صاحب کی پہلی ملاقات تھی شیخ محمدعبدللہ صاحب سے میں نے بڑی لہی گفتگو کی۔۔۔۔۔میں نے کہا کہ۔۔۔۔میں آپ کو کشمیر کی تحریک آزادی کا لیڈر مقرر کرنا چاہتا ہوں۔شیخ محمد عبداللہ نے کہا کہ میں لیڈری کے قابل نہیں دند