سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 227
۲۲۷ آپ نے کشمیری مسلمانوں کی حوصلہ افزائی اور عام بیداری کے لیے متعدد پریس بیان جاری فرماتے ان میں سے دو ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں۔میں متواتر کئی سال سے کشمیر میں مسلمانوں کی جو حالت ہو رہی ہے اس کا مطالعہ کر رہا ہوں اور لیے مطالعہ اور غور کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہوا ہوں کہ جب تک مسلمان ہر قسم کی قربانی کرنے کے لیے تیار نہ ہوں گے۔یہ زرخیز خطہ جو نہ صرف زمین کے لحاظ سے زرخیز ہے بلکہ دماغی قابلیتوں کے لحاظ سے بھی حیرت انگیز ہے کبھی بھی مسلمانوں کے لیے فائدہ بخش تو کیا آرام دہ ثابت نہیں ہو سکتا۔زمینداروں میں بیداری کی روح میں 1914ء میں جب کشمیر گیا تو مجھے یہ بات معلوم کر کے نہایت ہی خوشی ہوئی کہ مسلمانوں میں ایک عام بیداری پائی جاتی تھی حتی کہ کشمیری زمیندار جو کہ لیے عرصہ سے فلموں کا تختہ مشق ہونے کی وجہ سے اپنی خود داری کی روح بھی کھو چکے تھے۔ان میں بھی زندگی کی روح داخل ہوتی ہوئی معلوم دیتی تھی۔اتفاق حسنہ سے زمینداروں کی طرف سے جو جدوجہد کی جارہی تھی۔اس کے لیڈر ایک احمدی زمیندار تھے۔جناب خلیفہ عبدالرحیم ، ناقل ) زمینداروں کی حالت کے درست کرنے کے لیے جو کچھ وہ کوشش کر رہے تھے۔اس کی وجہ سے ریاست انہیں طرح طرح سے دق کر رہی تھی۔وہ ایک نہایت ہی شریف آدمی ہیں۔معززہ زمیندار ہیں۔اچھے تاجر ہیں۔اور ان کا خاندان ہمیشہ سے ہی اپنے علاقہ میں معزز چلا آیا ہے۔اور وہ بھی اپنی گذشتہ عمر میں نہایت ہی معزز اور شریف سمجھے جاتے رہے ہیں، لیکن محض کسانوں کی حمایت کی وجہ سے ان کا نام بدمعاشوں میں لکھنے کی کوشش کی جارہی تھی۔جب مجھے یہ حالات معلوم ہوئے تو میں نے مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم۔اے کو اس بارہ میں انسپکٹر جنرل آف پولیس ریاست جموں و کشمیر سے ملاقات کے لیے بھیجا گفتگو کے بعد انسیٹر جنرل آف پولیس نے یہ وعدہ کیا کہ وہ جائز کوشش بے شک کریں، لیکن زمینداروں کو اس طرح نہ ان سائیں جس سے شورش پیدا ہو اور اس کے مقابلہ میں وہ بھی یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ان کو جو نا جائز تکلیفیں پولیس کی طرف سے پہنچ رہی ہیں۔وہ اُن کا ازالہ کر دیں گے اور اسی طرح یہ یقین دلایا کہ جو جائز تکالیف کسانوں کو ہیں۔ان کا ازالہ کرنے