سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 228
ند ۲۲۸ کے لیے ریاست تیار ہے۔ہم نے یہ یقین کرتے ہوئے کہ یہ وعدے اپنے اندر کوئی حقیقت رکھتے ہیں۔ان صاحب کو جو اس وقت کسانوں کی رہنمائی کر رہے تھے یہ قین دلایا کہ ان کی جائز شکایات پر ریاست غور کرے گی۔اس لیے وہ کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے شورش اور فتنہ کا خوف ہو، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ زمینداروں کی جائز شکایات کا دور ہونا تو الگ رہا۔برا بر دو سال سے ان صاحب کے خلاف ریاست کے حکام کوششیں کر رہے ہیں اور باوجود مقامی حکام کے لکھنے کے کہ وہ صاحب نہایت ہی شریف انسان ہیں ان کا نام بدمعاشوں میں درج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ معاملہ مسٹر ویک فیلڈ کے سامنے بھی لایا جا چکا ہے ، لیکن افسوس ہے۔وہ بھی اس طرف توجہ نہیں کر سکے۔مسٹر ویکفیلڈ کا تازہ وعدہ اس تجربہ کو مد نظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ وہ تازہ خبر جو انقلاب " مورخہ ۱۲ جون کے پرچہ میں شائع ہوتی ہے کہ مسٹر ویکفیلڈ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کی تکالیف کو مہاراجہ صاحب کے سامنے پیش کرینگے اور ان کے دُور کرنے کی کوشش کریں گے۔اس پر زیادہ اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔مسٹر ویکفیلڈ کی شخصیت وہ لوگ جن کو مسٹر ویکفیلڈ سے ملنے کا موقعہ حاصل ہوا ہے۔یقین دلاتے ہیں کہ وہ اپنی ذات میں نہایت اچھے آدمی ہیں اور جہاں تک ہو سکے۔مسلمانوں کی خیر خواہی کرتے ہیں ، لیکن مسٹر ویک فیلڈ ہر حال ایک ہندو ریاست کے ملازم ہیں اور ریاست بھی وہ جس میں آج سے ساٹھ ستر سال پہلے یہ سکیم بنائی گئی تھی کہ کس طرح مسلمانوں کو شدھ کر کے بند و بنا لیا جائے۔ہم سب کو اس بات کی امید تھی کہ سر ہری سنگھ بہا در مہاراجہ کشمیر کے گدی نشین ہونے پر ریاست کی حالت اچھی ہو جائے گی ، لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ پہلے سے بدتر ہو گئی ہے۔نہ اس لیے کہ مہا راجہ ہری سنگھ بہادر اپنے پیشرو سے زیادہ متعصب ہیں۔کیونکہ واقعہ اس کے خلاف ہے بلکہ اس وجہ سے کہ ریاست میں ایک ایسا عنصر اس وقت غالب ہو رہا ہے۔جو نہایت ہی متعصب ہے اور آرمی راج کے قائم کرنے کے خیالی پلاؤ پکا رہا ہے۔یہ عنصر چونکہ مہاراجہ صاحب بہادر کے