سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 143 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 143

۱۴۳ لذت حاصل کی۔ہماری حالت اس شخص کی نہیں جو دیکھتا ہے کہ بادشاہ باغ کے اندر گیا ہے اور وہ باہر کھڑا اس بات کا انتظار کرتا رہے کہ کب بادشاہ با ہر نکلے تو میں اس کی دست بوسی کروں بلکہ ہم نے خود بادشاہ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا اور اس کے ساتھ باغ میں داخل ہوتے اور روش روش پھرے اور پھول پھول کو دیکھا۔ہم رازی کو نہیں جانتے ، ہم ابن حیان کونہیں مانتے بلکہ مسیح موعود کی صحبت سے نہیں وہ علوم حاصل ہوتے کہ اگر یہ لوگ بھی ہمارے زمانہ میں ہوتے تو ہماری شاگردی کو اپنے لیے فخر سمجھتے خدا تعالیٰ نے ہمیں وہ علوم عطا فرماتے ہیں کہ جن کی روشنی میں ہم نے دیکھ لیا کہ قرآن ایک زندہ کتاب ہے اور محمد رسول اللہ ایک زندہ رسول ہے" الفضل ۴ را پریل ۱۹۲۳ ) درس قرآن : آئندہ اوراق میں حضرت مصلح موعوضو کی خدمت قرآن کا مختصر تذکرہ پیش کیا جارہا ہے مگر اس سلسلہ میں یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیئے کہ قرآن مجید کی عظمت و شان اور اس کی تفسیر و مطالب کو عام کرنے کی جو دھن آپ کو لگی ہوئی تھی وہ آپ کی زندگی کے ہر ہر لمحہ سے عیاں ہوتی ہے اور آپکی سوانح کا سرورق اس پر شاہد ہے۔آپ نے نشاء سے قرآن مجید کا درس دینا شروع کر دیا تھا اور سب سے پہلے جس چیز نے لوگوں کی توجہ آپ کی طرف کھینچی وہ آپ کا پر معارف درس قرآن ہی تھا۔آپ نے اپنی اولاد میں سے سب سے بڑے لڑکے کو کسی بھی مروجہ تعلیم دلانے سے قبل قرآن مجید حفظ کروانے کا اہتمام فرمایا اور باقی ساری اولاد کو بھی عام تعلیم شروع کرنے سے قبل قرآن پڑھانے کا التزام رکھا جو عملی ثبوت تھا اس امر کا کہ آپ ہر علم ہر شان اور ہر چیز سے زیادہ قرآن مجید کو ترجیح دیتے ہیں۔آپ نے جماعت میں درس قرآن کے اہتمام و انتظام کی بار بار تاکید فرمائی۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔صدر انجمن احمدیہ کو چاہیئے کہ چار پانچ حفاظ مقرر کرے جن کا کام یہ ہو کہ وہ مساجد میں نمازیں بھی پڑھایا کریں اور لوگوں کو قرآن کریم بھی پڑھائیں۔اسی طرح جو قرآن کریم کا ترجمہ نہیں جانتے ان کو ترجمہ پڑھا دیں۔اگر صبح و شام وہ محلوں میں قرآن پڑھاتے رہیں تو قرآن کریم کی تعلیم بھی عام ہو جاتے گی اور یہاں مجلس میں بھی جب کوئی ضرورت پیش آئے گی ان سے کام لیا جاسکے گا۔ہر حال قرآن کریم کا چرچا عام کرنے کے لیے ہمیں حفاظ کی سخت الفضل ۲۶ اگست له ) ضرورت ہے۔