سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 144
۱۴۴ درس قرآن کے متعلق حضور نے جماعت کو نصیحت فرمائی : قرآن شریف دل سے تعلق رکھتا ہے اپنے دلوں کو کھولو اور اس کی طرف توجہ کرو جب تک دل نہ کھلے گا اس وقت تک یہ نور نہیں مل سکتا۔ساری برکتیں اسی میں ہیں اس لیے اس کی طرف توجہ کی بہت ضرورت ہے۔نوجوانوں کے لیے بھی درس کا باقاعدہ انتظام ہونا چاہیتے کیونکہ ان کے سامنے لوگ نئے نئے اعتراض کرتے رہتے ہیں اور دوسرے دوستوں کے لیے بھی مساجد اور محلوں میں درس کا انتظام ہونا چاہیئے۔علیحدہ طور پر پڑھنے میں نقص ہے کہ بعض لوگوں میں استقلال نہیں ہوتا اور وہ باقاعدہ نہیں پڑھ سکتے۔درس سے وہ بھی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں پھر ایک دوسرے کی معلومات اور اعتراضات سے بھی آگاہی ہو جاتی ہے۔اگر درس کے اختتام پر درس دینے والا یہ کہدے کہ اس کے متعلق اگر کسی کو کوئی اور نکتہ سُوجھا ہو تو بتا دے تو اس سے بھی بہت فائدہ ہو سکتا ہے اور قرآن کریم سیکھنے کا یہ بہت آسان ذریعہ ہے۔تعجب ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس قدر تاکید کے باوجود ابھی تک ایک طبقہ ایسا ہے جو اس طرف متوجہ نہیں۔حالانکہ دروازہ کھلا ہے معشوق سامنے بیٹھا ہے مگر قدم اُٹھا کر آگے نہیں جاتے " الفضل یکم فروری ۱۹۳۳) ( اسی طرح حضور نے فرمایا :- " ہماری جماعت کے لوگوں کو چاہیتے کہ دیوانہ وار نکلیں اور دنیا کو قرآن سے بہرہ ور کرنے کی پوری پوری کوشش کریں۔بے شک آج دنیا خدا سے دُور ہو رہی ہے۔دین سے غافل ہے قسم قسم کی بدیوں میں مبتلا ہے۔آج کل کا تمدن اور تہذیب قرآن کے خلاف ہیں۔موجودہ طرز حکومت قرآن کے بتاتے ہوئے طرز حکومت کے خلاف ہے۔اس وقت لوگوں کے مشاغل اور عادات و اطوار قرآن کے خلاف ہیں۔ان حالات میں قرآن کو مان لینا بہت مشکل ہے مگر اس میں بھی کیا شبہ ہے کہ سوائے قرآن کے ان تمام کا علاج بھی کوئی نہیں " الفضل ، ستمبر ) درس قرآن مجید کو قرآن کی محبت کے حصول اور فتنوں کے ازالہ کا باعث قرار دیتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :۔اصلاح نفس اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک قرآن کریم کا مطالعہ نہ ہو۔قرآن