سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 111 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 111

THE بتا دیا کہ یہاں سے اتنے سو پونڈ آیا۔جب میں ہندوستان واپس آیا تو میں نے اس وقت کے ناظر صاحب بیت المال سے کہا کہ کیا اس روپیہ کا پتہ لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم جھٹڑیاں لکھ لکھ کر تھک گتے ہیں۔سارے احمدی انکاری ہیں کہ ہم نے روپیہ نہیں بھیجا۔میں نے اس سعید غیر احمدی کو خط لکھنے شروع کئے کہ اتنا روپیہ آپ کی طرف سے ملا ہے۔یہ غالباً اس قرضہ کی تحریک کے نتیجہ میں ہے جو بیت المال کی طرف سے کی گئی تھی۔آپ اطلاع دیں تاکہ سلسلہ اس کو اپنے حساب میں درج کرے۔لیکن کئی ماہ مسلسل رجسٹری خطوط بھیجوانے کے بعد ایک جواب آیا۔اور وہ جواب یہ آیا کہ آپ کو غلطی لگی ہے کہ میں نے سلسلہ احمدیہ کو کوئی قرض دیا ہے۔چھ سو یا آٹھ سو پونڈ انہوں نے لکھے کہ میں نے لندن بنگ کے ذریعہ آپ کو بھجواتے تھے۔مگر وہ بیت المال کو قرض نہیں بھجواتے تھے بلکہ وہ آپ کو نذرا نہ تھے اس خط کے وصول ہونے پر میری حیرت کی حد نہ رہی کہ اس غیر احمدی کو اللہ تعالیٰ نے وہ توفیق دی جو کئی احمدیوں کو بھی نہ ملی تھی۔ممکن ہے غیر احمدیوں میں کوئی مالدار ہو مگر میرے علم میں تو غیر احمدیوں میں بھی کوئی اتنا مالدار نہیں تھا۔جو اس بشاشت سے چھ سو یا آٹھ سو پونڈ نذرانہ بھیجواد سے مگر بہر حال چونکہ وہ سلسلہ کے لیے مد نظر تھا۔اور وہ بھیجنے والا غیراحمدی تھا۔اس لیے میں نے نوٹ کر لیا کہ یہ روپیہ سلسلہ کا ہے اور مسجد لندن کے حساب میں میں نے وہ رقم بنک میں جمع کرادی اور حساب کر کے گذشتہ سال تحریک جدید کو مسجد لندن کے حساب میں ۳۱ ۷ یا ۷۵۰ پونڈ ادا کر دیتے جس سے مسجد لندن کی مرمت وغیرہ ہوئی۔ہر حال اس طرح میں بھی اپنے فرض سے سبکدوش ہوا، اور مسجد کی موت بھی ہوگئی اور خدا تعالیٰ نے خانہ خدا خانہ کفر میں بنوانے کی توفیق بخشی۔اسی نے وہ نذر نہ بھیج کر مجھ پر احسان کیا اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق بخشی کہ میں اس کے احسان کی قدر اس صورت میں ظاہر کروں کہ ده رو پیر خانہ خدا کے بنانے پر خرچ ہو جائے۔۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے سَيَنْصُرُكَ رِجَالُ نُوحِی اليهِم مِّنَ السَّمَاءِ - عنقریب تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن پر ہم وحی کریں گے۔گویا جو شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مدد کرتا تھا وہ وحی کے ماتحت کرتا تھا۔یہی معاملہ خدا کا میرے ساتھ رہا ہے۔میں نے تو ہمیشہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ پکڑا ہے، اور اس سے کہا ہے کہ اپنے نوکر کو دوسروں کی ڈیوڑھی سے مانگ کر گزارہ کرنے پر مجبور مت کر۔اس میں