سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 112
نوکر کی ہتک نہیں۔آقا کی ہتک ہے۔اگر میرا نو کر دوسرے سے روٹی مانگے تو وہ میری عزت برباد کرتا ہے۔اس لیے کبھی انسان کے مال پر نہ میں نے نظر رکھی ہے نہ آئندہ کبھی رکھوں گا۔اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ میری خود ہی مدد کی ہے۔اور آئندہ بھی وہی مدد کریگا۔کسی نے میری مدد نہیں کی کہ خدا تعالیٰ نے اس سے بیسیوں گنے اس کی مدد نہ کی ہو۔درجنوں مثالیں اس کی موجود ہیں جو چاہے میں اس کا ثبوت دے سکتا ہوں تاکہ کوئی یہ نہ شبہ کرے کہ میں لوگوں پر اثر ڈالنے کے لیے یہ بات کر رہا ہوں۔آخر وہ اس کا کیا جواب دے گا کہ شخص جو بالکل غریب حالت میں تھا۔اس نے میری مدد کی۔تو اللہ تعالیٰ نے اس کو دولت دے دی یا اس کی اولاد کو اتنی تعلیم دلادی کہ وہ صاحب۔۔۔۔۔۔اس موقعہ پر میں یہ کہنے میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ مجھے جو شکوہ پیدا ہوا تھا کہ اس سال تحریک کے وعدے پورے نہیں آرہے۔خدا تعالیٰ نے جماعت کو اس شکوہ کے دور کرنے کی توفیق بخش دی ہے۔اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے آج کی تاریخ تک قریباً چھ ہزار کے وعدے زائد آچکے ہیں۔اور موجودہ رفتار پر قیاس رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ میعاد کے آخر تک اللہ تعالٰی کی مدد اور نصرت سے چالیس پچاس ہزار روپے کے وعدے بڑھ جائیں گئے۔دنیا کی نظروں میں یہ بات عجیب ہے۔مگر خدائے عجیب کی نظر میں یہ بات عجیب نہیں کیونکہ اس کے مخلص بندوں کے ہاتھوں سے ایسے معجزے ہمیشہ ہی ظاہر ہوتے چلے آتے ہیں۔اور قیامت تک ظاہر ہوتے چلے جائیں گے۔پہلے بھی خدا تعالیٰ ایسے ہی بندوں کے چہروں سے نظر آتا رہا ہے۔اور اب ہمارے زمانہ میں بھی ایسے ہی انسانوں کے چہروں سے خدا نظر آئے گا۔اور ان کے دلوں اور ایمانوں سے ایسے معجزے ظاہر نہیں ہوں گے بلکہ برسیں گے منکر انکار کرتے چلے جائیں گے۔جبرائیل کا قافلہ بڑھتا جائے گا۔اور آخر عرش تک پہنچ کر دم لے گا۔عرش کا راستہ محمدرسول اللہصلی اللہ علیہ سلم نے معراج کی رات اپنی امت کے لیے کھول دیا ہوا ہے۔اب کوئی ماں ایسا بیٹا نہیں جنے گی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھولا ہوا راستہ بند کر سکے۔شیطان حسد سے مرجائے گا۔مگر خدا تعالیٰ کی مد و محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوشیطانی حسد کی آگ سے بچالے گی۔دوزخ چاہے