سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 110
اس لیے پیشتر اس کے کہ تکلیف بڑھ جائے میں یورپ چلا جاؤں۔اور وہاں کے ڈاکٹروں سے علاج کرواؤں تاکہ میں اچھا ہو کر خطبہ بھی دے سکوں تفسیر بھی مکمل کر سکوں اور جماعتی ترقی کے لیے جس غور و فکر کی ضرورت ہوتی ہے وہ قائم رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب میں ۱۹۲۳ تہ میں انگلینڈ گیا تھا۔تو ہندوستان کی مالی حالت بہت خراب تھی اور ہندوستانی جماعت اخراجات سفر برداشت نہیں کر سکتی تھی۔اس وقت زیادہ الیسٹ افریقہ عراق اور چند اور غیر ممالک کے احمدیوں نے اکثر حصہ بوجھ کا اُٹھایا تھا۔قادیان کی انجمن ہمارے کھانے کے بھی خرچ نہیں بھیجو اسکتی۔مگر اللہ تعالیٰ نے افریقہ اور عرب کی جماعتوں کے اندر اس قدر اخلاص اور ایمان پیدا کر دیا کہ سارے قافلہ کے کھانے اور تبلیغ کا خرچ میں ادا کرتا تھا۔یا یوں کہو کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ سے ادا کرتا تھا۔واقعہ اس طرح ہوا کہ میں نے مالی مشکلات کو دیکھتے ہوتے ایسٹ افریقہ کے چند دوستوں کو لکھا کہ مجھے سفر کی ضرورتوں اور جماعت کے وفد کے اخراجات کے لیے کچھ انگریزی سکہ قرض کے طور پر دے دیں۔وہ آدمی تو تھوڑے سے تھے۔مجھے یاد ہے کہ اس وقت تک ایسی حیثیت کے آدمی چند تھے۔جہاں تک مجھے یاد ہے۔میاں اکبر علی صاحب۔سید معراج الدین صاحب اور بابو محمد عالم صاحب ممبا سوی ایسی حالت میں تھے کہ کچھ قرض دے سکیں، لیکن ایمان دنیا کے خزانوں سے بڑا ہوتا ہے۔ایمان نے ان کی تمام مالی کمزوریوں کو دور کر دیا۔مجھے یاد ہے کہ بابو اکبر علی صاحب نے اپنی تجارت کا ایک حصہ نیلام کر دیا اور روپیہ مجھے قرض بھجوا دیا چونکہ یہ جماعتی حساب میں تھا۔جماعت نے ادا کر دیا۔مگر اس وقت ایک عجیب لطیفہ ہوا جو خدا کی قدرت کا نمونہ تھا۔عراق میں ہمارے صرف ایک احمدی دوست تھے۔اور ان کی مالی حالت کچھ اچھی نہیں تھی۔میں نے ان کو بھی خط لکھا۔انہوں نے اپنے کسی اور دوست سے ذکر کر دیا۔ایک دن لندن کے ایک بنک نے مجھے اطلاع دی کہ تمہارے نام اتنے سو پونڈ آیا ہے۔میں نے سمجھا کہ قادیان نے مبلغین کے قافلہ کا خرچ بھجوایا ہے، لیکن دریافت پر بنک نے بتایا کہ قادیان یا ہندوستان سے وہ روپیہ نہیں آیا بلکہ عراق سے آیا ہے میں نے بیت المال قادیان کو اطلاع دی کہ آپ لوگوں نے قرض کی تحریک کی تھی۔اور میں نے بھی اس کی تصدیق کی تھی۔اس سلسلہ میں رو پیر آنا شروع ہوا ہے۔آپ نوٹ کر لیں اور چونکہ بعد میں ادا کرنا ہے۔اور عراق کا پتہ ان کو