سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 100 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 100

ایک انسان کی ہمت وطاقت سے بہت بڑھ کر تھا۔اس کے ساتھ ہی ساتھ حضور کی عام صحت جو بچپن سے ہی کمزور چلی آتی تھی اور پھر شاہ کا قاتلانہ جملہ ان سارے امور پر یکجائی نظر ڈالنے سے ہی نظر آتا ہے کہ جلد جلد بڑھنے والا یہ ذہین و فهیم وجود ایک خاص قرب کے مقام پر فائز ہے۔تاہم بتقاضائے بشریت ۲۶ فروری شاہ مغرب کے وقت حضور پر اعصابی کمزوری۔گھبراہٹ اور بائیں طرف بے حسی کا حملہ ہوا۔حضرت سیدہ ام متین نے جو اس وقت حضور کے ہمراہ تھیں بمشکل حضور کو چارپائی پر لٹایا۔حضرت صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب نے فوری طور پر حضور کو طبی امداد ہم پہنچائی۔نو بجے رات تک بیماری کی ان علامات میں قدرے تخفیف ہوئی ، تاہم لاہور سے ڈاکٹراسلم پیر زادہ نے کوئی ایک بجے رات ربوہ پہنچ کر حضور کا معائنہ کیا اور علاج تجویز کیا۔ان کے علاوہ خانصاحب ڈاکٹر محمد یوسف صاحب۔ڈاکٹر کرنل الہی بخش صاحب نے بھی علاج میں حصہ لیا۔پیشاب اور خون کے بعض ٹیسٹوں کے لیے ڈاکٹر غلام محمد صاحب انچارج کلینکل لیبارٹری میوہسپتال کی خدمات کی ضرورت پڑی تو انہوں نے بڑی توجہ اور ہمدردی سے یہ خدمات سرانجام دیں۔ہر احمدی حضور کی صحت کے لیے مسلسل دُعاؤں میں مصروف تھا۔بیرون ملک بھی جماعتوں نے اس خبر کو اسی طرح سنا اور ہر جگہ صدقات دینے اور خصوصی اجتماعی دعاؤں کا التزام و اہتمام کیا گیا۔ڈاکٹری مشورہ : بیماری کی نوعیت اور حضور کی عام صحت بالخصوص قاتلانہ حملے کی شدت کو دیکھتے ہوتے بہت پریشانی اور گھراہٹ تھی۔تاہم مومنوں کی گریہ وزاری اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کا ذریعہ بنی اور حضور کی بیماری میں افاقہ ہونے لگا اور تمام علامات میں آہستہ آہستہ تخفیف ہونے لگی تاہم ڈاکٹروں نے غالباً یہ دیکھتے ہوئے کہ حضور کی ذمہ داریوں اور کام کی نوعیت ایسی ہے کہ حضور یہاں رہتے ہوئے ضروری آرام نہیں کر سکتے۔حضور کو بغرض علاج و آرام یورپ یا امریکہ جانے کا مشورہ دیا۔اس سے قبل جماعت کے نمائندگان حضور کو بغرض علاج یورپ تشریف لے جانے کی درخواست بھی کر چکے تھے حضور اپنے ایک پر کیف پیغام میں بیماری کی تفصیل اور ڈاکٹری مشورہ کا ذکر کرنے کے بعد جماعت سے غیر معمولی لگاؤ اور محبت اور خدا تعالیٰ پر توکل و اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں۔" ہر انسان جو پیدا ہوا ہے۔اس نے مرنا ہے۔اُن گھڑیوں میں جب میں محسوس کرتا تھا کہ میرا دل ڈوبا کہ ڈوبا۔مجھے یہ غم نہیں تھا کہ میں اس دنیا کو چھوڑ رہا ہوں۔مجھے یہ غم تھا کہ میں آپ لوگوں کو چھوڑ رہا ہوں۔اور مجھے یہ نظر آ رہا تھا کہ ابھی ہماری جماعت میں وہ آدمی