سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 101 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 101

H نہیں پیدا ہوا۔جو آپ کی نگرانی ایک باپ کی شکل میں کرے۔میرا دماغ بوجھ نہیں برداشت کر سکتا تھا مگر اس وقت میں برابر یہ دعا کرتا رہا کہ اے میرے خدا جو میرا حقیقی باپ اور آسمانی باپ ہے مجھے اپنے بچوں کی فکر نہیں کہ وہ قیم رہ جائیں گے۔مجھے اس کی فکر ہے کہ وہ جماعت جو سینکڑوں سال کے بعد تیرے مامور نے بنائی تھی۔وہ قیم رہ جائے گی۔اگر تو مجھے نیستی دلا دے کہ ان کے یتیم کا میں انتظام کر دوں گا۔تو پھر میری یہ تکلیف کی گھڑیاں سہل ہو جائیں گی۔مگر تو مجھ سے یہ کس طرح اُمید کر سکتا ہے کہ یہ لاکھوں روحانی بچے جو تو نے مجھے پیتے ہیں۔جن کے دشمن چپے چپے پر دنیا میں موجود ہیں۔اور جن کو ختم کرنے کے لیے ہر وقت شیطانی نیزے اُٹھ رہے ہیں۔جب میرے بعد ان نیزوں کو اپنی چھاتی پر کھانے والا کوئی نہیں رہے گا تو تو ہی بتا کہ میں اس بات کو کسی طرح برداشت کر لوں۔مجھے موت کا ڈر نہیں۔مجھے اُن لوگوں کے تقسیم ہو جانے کا ڈر ہے جنہوں نے تیرے نام کو روشن کرنے کے لیے پچاس سال متواتر قربانیاں کیں۔ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔دنیا نے ان کو کمائی سے محروم کر دیا تھا۔پھر بھی وہ ہر اس آوازہ پر آگے بڑھے جو تیرے نام کے روشن کرنے کے لیے میں نے اُٹھائی تھی۔اب اسے میرے وفا دار آقا ! تجھے تیری ہی وفاداری کی قسم دیتا ہوں۔ان کمزوروں نے اپنی کمزوریوں کے باوجود تجھ سے وفاداری کی۔تو طاقتور ہوتے ہوئے ان سے بے وفائی نہ کیجیو کہ یہ بات تیری شان کے شایاں نہیں۔اور تیری پاکیزہ صفات کے مطابق نہیں۔میں ان لوگوں کو تیری امانت میں دیتا ہوں اسے سب امینوں سے بڑے امین - اس امانت میں خیانت نہ کیجیو۔اور اس امانت کو پوری وفاداری کے ساتھ سنبھال کر رکھیو۔ڈاکٹر مجھے کہتے ہیں حکومت کرو لیکن میں اس امانت کا فکر کس طرح نہ کروں جسے میں نے پچاس سال سے زیادہ عرصہ تک اپنے سینہ میں چھپائے رکھا اور ہر عزیز ترین شے سے زیادہ عزیز سمجھا۔اے میرے عزیزو! تم سے کوتاہیاں بھی صادر ہوئیں۔تم سے قصور بھی ہوتے بگریں نے یہ دیکھا کہ ہمیشہ ہی خدا تعالی کی آواز پر تم نے لبیک کہا۔تم موت کی وادیوں میں سے گزر کر بھی خدا تعالیٰ کی طرف دوڑتے رہے ہو۔مجھے یقین ہے کہ خدا تعالیٰ تمہیں نہیں چھوڑے گا۔خدا تعالیٰ تمہیں بے کسی اور بے بسی کی موت نہیں دے گا۔۔۔۔۔۔ہمارا خدا سچا خدا ہے۔زندہ خدا ہے۔وفادار خدا ہے۔تم ہمیشہ اس پر توکل رکھو۔اور اس دعا کے