سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 380 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 380

حضرت خلیفہ اول بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا مولوی عبدالکریم صاحب بہت برہاہے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا مولوی برہان الدین صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا حافظ روشن علی صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا قاضی امیرین صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا میر محمد اسحق صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے بلکہ ہمارے لیے خطرہ کی بات یہ ہے کہ جماعت کسی وقت بحیثیت مھمانے مرجاتے اور ایک عالم کی جگہ دوسرا ہمیں اپنی جماعت میں دکھائی نہ دے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ به صفحه ۱۷۴ تا ۱۷۸ ) شور است حفظ قرآن و تبلیغ کی تحریک ، حفظ قرآن کی طرف حضور کو خاص توجہ تھی اس سلسلہ میں آپ نے متعد د تجاویز جاری فرمائی اور حیات کو اس سعادت سے برہ اندوزہ ہونے کی تلقین فرمائی۔(الفضل ۲۶ جولائی ۹۳۳) دیوانہ وار تبلیغ کی تحریک فرماتے ہوئے حضور نے ارشاد فرمایا : دُنیا میں تبلیغ کرنے کے لیے نہیں ہزاروں مبلغوں کی ضرورت ہے مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مبلغ کہاں سے آئیں اور ان کے اخراجات کون برداشت کرے۔میں نے بہت سوچا ہے مگر بڑے غور وفکر کے بعد میں سوائے اس کے اور کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا کہ جب تک وہی طریق اختیار نہیں کیا جائے گا جو پہلے زمانوں میں اختیار کیا گیا تھا۔اس وقت تک ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔۔۔۔۔۔۔حضرت مسیح ناصری نے اپنے حواریوں سے کہا کہ تم دنیا میں نکل جاؤ اور تبلیغ کرو جب رات کا وقت آئے تو جس بستی میں تمہیں ٹھہرنا پڑے اس لیستی کے رہنے والوں سے کھانا کھاؤ اور پھر آگے چل دو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بڑی حکمت سے یہ بات اپنی امت کو سکھاتی ہے۔آپ نے فرمایا۔ہر بستی پر باہر سے آنے والے کی مہمان نوازی تین دن فرض ہے۔۔۔۔۔۔میں سمجھتا ہوں اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کے طریق کی طرف ہی اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے اگر تم کسی بستی سے تین دن کھانا کھاتے ہو تو یہ بھیک نہیں ہاں اگر تین دن سے زائد ٹھہر کہ تم ان سے کھانا مانگتے ہو تو یہ بھیک ہو گی۔اگر ہماری جماعت کے دوست بھی اسی طرح کریں کہ وہ گھروں سے تبلیغ کے لیے نکل کھڑے ہوں ایک ایک گاؤں اور ایک ایک بستی اور ایک ایک شہر میں تین تین دن ٹھہرتے جائیں اور تبلیغ کرتے جائیں۔اگر کسی گاؤں والے لڑیں تو جیسے