سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 379 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 379

بعض لوگ حماقت سے یہ سمجھتے ہیں کہ جو تقریر اور تحریر کرے وہی مبلغ ہے۔حالانکہ اسلام تو ایک محیط کل مذہب ہے۔اس کے احکام کی تکمیل کے لیے ہیں ہر قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہے۔وہی مبلغ نہیں جو تبلیغ کے لیے باہر جاتا ہے۔جو سلسلہ کی جائیدادوں کا انتظام تندہی اور اخلاص سے کرتا ہے اور باہر جانے والے مبلغوں کے لیے اور سلسلہ کے لٹریچر کے لیے روپیہ زیادہ سے زیادہ مقدار میں کماتا ہے وہ اس سے کم نہیں اور خدا تعالیٰ کے نزدیک مبغلوں میں شامل ہے جو سلسلہ کی عمارتوں کی اخلاص سے نگرانی کرتا ہے۔وہ بھی مبلغ ہے جو سلسلہ کے لیے تجارت کرتا ہے۔وہ بھی مبلغ ہے جو سلسلہ کا کارخانہ چلاتا ہے۔وہ بھی مبلغ ہے جو زندگی وقف کرتا ہے اور اسے سلسلہ کے خزانہ کا پریدار مقرر کیا جاتا ہے وہ بھی مبلغ ہے۔کسی کام کی نوعیت کا خیال دل سے نکال دو اور اپنے آپ کو سلسلہ کے ہاتھ میں دے دو۔پھر جہاں تم کو مقرر کیا جائے گا وہی مقام تمہاری نجات اور برکت کا مقام ہو گا۔الفضل ۳۱ مارچ ۱۹۳۳ کالج فنڈ کی تحریک -:- جماعت کے نوجوانوں کی علمی و تربیتی ضروریات کو بہتر رنگ میں پورا کرنے کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپیہ چندہ کی تحریک فرمانی اور حضور نے اس مد میں گیارہ ہزار روپے چندہ ادا فرمایا۔الفضل ۲۳ متى ۹۴ ماہرین علوم پیدا کرنے کی تحریک :- اس سلسلہ میں حضور ارشاد فرماتے ہیں :- " تم اپنے آپ کو روحانی لحاظ سے مالدار بنانے کی کوشش کرو۔تم میں سینکڑوں فقیہ ہونے چاہئیں۔تم میں سینکڑوں محدث ہونے چاہئیں۔تم میں سینکڑوں مفسر ہونے چاہئیں۔تم میں سینکڑوں علم کلام کے ماہر ہونے چاہئیں۔تم میں سینکڑوں علم اخلاق کے ماہر ہونے چاہئیں۔تم میں سینکڑوں علم تصوف کے ماہر ہونے چاہئیں۔تم میں سینکڑوں منطق اور فلسفہ اور فقہ اور لغت کے ماہر ہونے چاہئیں تاکہ جب ان سینکڑوں میں سے کوئی شخص فوت ہو جاتے تو تمہارے پاس ہر علم اور ہر فن کے ۴۹۹ عالم موجود ہوں۔ہمارے لیے یہ خطرہ کی بات نہیں ہے کہ