سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 373
ایک خوشخبری : مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی خبر اب تک نہیں ملی کہ میرے ذمہ کوئی کام پاتی ہے یا نہیں۔میکین خواہ میری زندگی میں سے ایک منٹ بھی باقی رہتا ہو میں پورے یقین اور وثوق کے ساتھ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا دشمن خواہ کتنا زور لگا لے وہ اسلام کی تاریخ سے میرا نام نہیں مٹا سکتا کیونکہ میں راستباز ہوں اور میں نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر دنیا کو یہ اطلاع دی ہے اپنی طرف سے کوئی بات بیان نہیں کی ؟ ) الموعود صفحه ۳ ۵ تا ۷۰ ) پیشگوئی کی عظمت : اس پیشگوئی کی اغراض بیان کرتے ہوئے اپنے اسی خطاب میں جس کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے حضرت مصلح موعود و فرماتے ہیں : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ۲۰ فروری شاہ کے اشتہار میں ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر فرمایا ہے کہ یہ پیشگوئی جو دنیا کے سامنے کی گئی ہے۔اس کی کتی اغراض ہیں۔اول :- یہ پیشگوئی اس لیے کی گئی ہے کہ جو زندگی کے خواہاں ہیں۔موت سے نجات پائیں اور جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آئیں۔اگر یہ سمجھا جائے کہ اس پیشگوئی نے چار سو سال کے بعد پورا ہونا ہے تو اس کے معنے یہ نہیں گئے کہ میں نے یہ پیشگوئی اس لیے کی ہے کہ جو آج زندگی کے خواہاں ہیں وہ بیشک مرے رہیں چار سو سال کے بعد اُن کو زندہ کر کر دیا جائے گا۔یہ فقرہ بالبداہت باطل اور غلط ہے۔آپ فرماتے ہیں یہ چلہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ وہ لوگ جو دین اسلام سے منکر ہیں۔ان کے سامنے خدا تعالیٰ کا ایک زندہ نشان ظاہر ہو اور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کرامت کا انکار کر رہے ہیں اُن کو ایک تازہ اور زیر دست ثبوت اس بات کا مل جائے کہ اب بھی خدا تعالیٰ اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں اپنے نشانات ظاہر کرتا ہے وہ الہامی الفاظ جو اس پیشگوئی کی غرض و نمایت پر روشنی ڈالتے ہیں۔یہ ہیں کہ : ہ خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پادیں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں " اب اگر ان لوگوں کے نظریہ کو صحیح سمجھ لیا جائے جو یہ کہتے ہیں کہ مصلح موعود تین چار سو سال کے بعد