سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 374 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 374

۷۴ آئے گا تو اس فقرہ کی تشریح یوں ہوتی ہے کہ یہ پیشگوئی اس لیے کی گئی ہے تاکہ وہ لوگ جو آج زندگی کے خواہاں ہیں مرے رہیں چار سو سال کے بعد اُن کی نسلوں میں سے بعض لوگوں کو زندہ کر دیا جائے گا میگر کیا اس فقرہ کو کوئی شخص بھی صحیح تسلیم کر سکتا ہے۔دوسرے یہ پیشگوئی اس لیے کی گئی تھی تا دین اسلام کا شرف ظاہر ہو اور کلام اللہ کا رتبہ لوگوں پر عیاں ہو۔اس فقرہ کے صاف طور پر یہ معنے ہیں کہ دین اسلام کا شرف اس وقت لوگوں پر ظاہر نہیں اسی طرح کلام اللہ کا مرتبہ اس وقت لوگوں پر ظاہر نہیں۔مگر کہا یہ جاتا ہے کہ خدا نے یہ پیشگوئی اس لیے کی ہے تادین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ آج سے تین سو سال کے بعد یا چار سو سال کے بعد جب یہ لوگ بھی مر جائیں گے اُن کی اولاد میں بھی مر جائیں گی اور اُن کی اولادیں بھی مر جائیں گی۔لوگوں پر ظاہر کیا جائے۔جب نہ پنڈت سکھرام ہو گا نہ منشی اندر من مراد آبادی ہو گا نہ ان کی اولادیں ہوں گی اور نہ ان اولادوں کی اولادیں ہوں گی۔اس وقت دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر کیا جائے گا۔بتاؤ کہ کیا کوئی بھی شخص ان معنوں کو درست سمجھ سکتا ہے۔تیسرے آپ نے فرمایا۔یہ پیشنگوئی اس لیے کی گئی ہے تاکہ حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جاتے۔اس کے معنے بھی ظاہر ہیں کہ حق اس وقت کمزور ہے اور باطل غلبہ پر ہے۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ایسا نشان ظاہر ہو کہ عقلی اور علمی طور پر دشمنان اسلام پر محبت تمام ہو جاتے اور وہ لوگ اس بات کو ماننے پر مجبور ہو جائیں کہ اسلام حق ہے اور اس کے مقابل میں جس قدر مذاہب کھڑے ہیں وہ باطل ہیں۔چوتھی غرض اس پیشگوئی کی یہ بیان کی گئی تھی کہ تا نا سمجھیں کہ میں قادر ہوا ، اور جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔اب یہ غور کرنے والی بات ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کو اس صورت میں کس طرح قادر سمجھ سکتے تھے۔اگر یہ کہہ دیا جاتا کہ تین سو سال کے بعد یا چار سو سال کے بعد ایک ایسا نشان ظاہر ہو گا جس سے تم یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاؤ گے کہ اسلام کا خدا قادر ہے۔ایسی پیشنگوئی کو سکھرام کیا اہمیت دے سکتا تھا یا وہ لوگ جو اس وقت دین اسلام پر اعتراضات کر رہے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نشانات کو باطل قرار دے رہے تھے۔اسلام کو ایک مردہ مذہب قرار دے رہے تھے۔ان پر کیا حجت ہو سکتی تھی کہ تم چار سو سال کے بعد خدا تعالیٰ کو قادر سمجھنے لگ جاؤ گے، چار سو سال کے بعد پوری ہونے والی پیشگوئی سے وہ لوگ خدا تعالیٰ کو کس طرح قادر سمجھ سکتے تھے۔وہ تو یہی کہتے کہ ہم ان زبانی دعووں کو تسلیم نہیں کر سکتے کہ چار سو سال کے بعد ایسا ہو جائے گا۔یہ تو ہر کوئی کہ سکتا ہے۔بات تب ہے کہ ہمارے