سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 372 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 372

اور اس کا وجود خدا تعالیٰ کے جلا لی نشانات کا حامل ہوگا۔وہ میں ہی ہوں اور میرے ذریعہ ہی وہ پیشگوئیاں پوری ہوتی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ایک موعود بیٹے کے متعلق فرماتی تھیں۔یاد رہے کہ میں کسی خوبی کا اپنے لیے دعویدار نہیں ہوں۔میں فقط خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایک نشان ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو دنیا میں قائم کرنے کے لیے خدا تعالیٰ نے مجھے ہتھیار بنایا ہے اس سے زیادہ نہ مجھے کوئی دعوی ہے نہ مجھے کسی دعوی میں خوشی ہے۔میری ساری خوشی اسی میں ہے کہ میری خاک محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسل کی کھیتی میں کھاد کے طور پر کام آ جاتے اور اللّہ تعالیٰ مجھ پر راضی ہو جاتے اور میرا خاتمہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے قیام کی کوشش پر ہو۔مجھے کسی دعوامی کا شوق نہیں ہے۔اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے انبیاء بھی جب خدا ان کو کہتا ہے تو وہ دعوی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔خود ان کو دعوی کرنے کا شوق نہیں ہوتا۔میری ذاتی کیفیت تو جیسا کہ میں نے بارہا کہا ہے۔یہ ہے کہ اگر خدا مجھ سے دین کی خدمت کا کام لے لے۔تو چاہے کوئی شخص میرا نام چوڑھا یا چوڑھے سے بھی بد تر رکھ دے مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوسکتی۔مگر چونکہ خدا نے مجھے دعوی کرنے کے لیے کہا ہے اور چونکہ اس اجتماع میں بعض ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جن کو میرے ساتھ زندگی بسر کرنے کا موقع نہ ملا ہو اور وہ اس امر کو نہ سمجھتے ہوں کہ میں سچ بولنے والا ہوں۔یا جھوٹ بولنے والا۔اس لیے جس طرح پہلے مختلف مقامات پر میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر اس امر کا اعلان کر چکا ہوں۔اسی طرح اب جبکہ جماعتوں کے نمائندے یہاں ہزاروں کی تعداد میں چاروں طرف سے جمع ہیں اور غیر بھی سینکڑوں کی تعداد میں یہاں موجود ہیں۔میں اللہ تعالیٰ کی جو زمین اور آسمان کو پیدا کرنے والا ہے جس نے مجھے بھی پیدا کیا اور میرے آباؤ اجداد کو بھی جس کی بادشاہت سے کوئی چیز باہر نہیں جس کا مقابلہ کرنا انسان کو لعنتی بنا دیتا اور دینی اور دنیوی تباہیوں کا مستوجب بنا دیتا ہے ہیں اُسی وحدہ لاشریک خدا کی جو قرآن اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خدا ہے قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ میں نے اس وقت جو روبانہ بیان کیا ہے وہ میں نے حقیقتاً اسی رنگ میں دیکھا تھا اور مکی نے بغیر کسی قطع و برید کے اور بغیر کسی زیادتی کے رسوائے اس کے کہ رویایہ کو بیان کرتے ہوئے کوئی لفظ بدل گیا ہو اس کو اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ رویا۔دکھایا گیا۔اگر میں اپنے اس بیان میں جھوٹا ہوں تو اللہ تعالیٰ مجھے جھوٹوں کی سزا دے، لیکن میں جانتا ہوں کہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی مجھے دکھایا گیا ہے اور خدا تعالیٰ خود ایک نظارہ دکھا کر اپنے کسی بندہ کو ذلیل نہیں کیا کرتا۔