سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 346 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 346

تحریک جدید کی افق تا افقی عظیم الشان کامیابیوں اور ترقیات کا لامتناہی سلسلہ اور غیر معمولی افضال برکات الہی کے جلوے دیکھتے ہوئے اس باب میں دشمنان اسلام کے بغض و حسد اور ناکامی کے ذکر کی چنداں ضرورت معلوم نہیں ہوتی مگر تحریک جدید کے پس منظر کے طور پر ابتداء میں اس امر کا ذکر ضروری معلوم ہوتا تھا تا تحریک جدید کی عظمت و شان کا پوری طرح اندازہ ہو سکے۔یہاں آخر میں بھی خدائی تائید و نصرت کے اس نشان کا ذکر بطور تحدیث نعمت غیر ضروری نہ ہوگا۔ہم پڑھ چکے ہیں کہ حضرت فضل عمران نے احرار کے متعلق فرمایا تھا کہ میں ان کے پاؤں تلے سے زمین نکلتے دیکھ رہا ہوں۔جس وقت یہ الفاظ کئے گئے اس وقت بہت سے لوگوں نے حیرت و تعجب کا اظہار کیا اور مخالفین میں سے اکثر نے تو مذاق و تمسخر کا طریق بھی اختیار کیا مگر خدائے ذوالعجائب نے جو خود اپنے بے کس و بے بس بندوں کی آواز متی نصر الله" کا جواب بن جایا کرتا ہے ایسی صورت پیدا فرمائی کہ تھوڑے عرصہ میں ان کا یہ حال۔ہو گیا کہ سے پڑھ چکے احرار بس اپنی کتاب زندگی ہو گیا پھٹ کر ہوا ان کا حباب زندگی ٹوٹنے نیچلے تھے وہ امن وسکون بیکساں خود انہی کے لٹ گئے حسن و شباب زندگی اور احرار اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں۔اپنی ظاہری شان و شوکت اپنی کثرت وسائل و ذرائع اور حکومت کے افسروں۔ہندو سرمائے اور ہندو پریس کی تائید کے باوجود حسرت و یاس اور عبرت ناک ناکامی کا مرقع بنا دیتے گئے ان کی اس حالت کا نقشہ کھینچتے ہوئے ایک مسلم اخبار نے لکھا :- " شہید گنج کی تحریک جیسے احرار نے جو کانگریس کے اشاروں پر ناچتے ہیں چلایا تھا۔کچھ عرصہ تک ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سکندری وزارت کی جڑیں کھوکھلی کر دیگا، لیکن سر سکندر نے انہیں انہی کے داؤں پر مارا۔وہ ایک دلیرانہ بیان لے کر قوم کے سامنے آئے جس سے احراریوں کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔اور یہ ایسی تدبیر تھی کہ جس پر کانگریسی لیڈروں نے بھی انہیں مبارکباد کے تار بھیجے " اخبار احسان در اکتوبر ته بحواله الفضل ۲۱ اکتوبر شسته ) ایک غیرمسلم اخبار نے حضرت فضل عمران کی پیشنگوئی کا ذکر کرتے ہوئے احرار کی ناکامی و نامرادی کے متعلق لکھا :۔