سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 347
مناک کام سرا " تھوڑا عرصہ ہوا کہ مرزا بشیر الدین محمود امام جماعت مرزا نبیہ نے پیشنگوئی کی تھی کہ یں دیکھتا ہوں کہ احراریوں کے پاؤں تلے سے زمین نکلتی جارہی ہے۔یہ پیشینگوئی آج بالکل پوری ہو رہی ہے۔بھرتی کے سلسلہ میں سارے ہندوستان کے خلاف احرار نے مخالفت کا جو بیڑا اٹھایا تھا اس پر حکومت نے جب کمیشن لیا اور چند احراری لیڈروں کوگرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ چلایا تو احراریوں کی یہ حالت ہوئی کہ سنیچے سے ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی، شرخ قمیصیں (احرار کا امتیازی نشان ناقل اتار کر پھاڑ کر نالیوں میں پھینک دی گئیں اور آگ میں بھی جلا دی گئیں۔چنانچہ آج امرتسر میں ایک بھی سُرخ تمیمی نظر نہیں آتی۔کئی گرفتار شدہ احراریوں نے تحریری معافی مانگ کر رہائی حاصل کی اور کئی جن کو پولیس تلاش کر رہی ہے۔مفرور ہیں ، چوہدری افضل حق صاحب کی گرفتاری پر ہڑتال کا اعلان کیا گیا، لیکن ایک دکان بھی بند نہ ہوئی۔یہ ہے احرار کی کامیابی کا ایک نمونہ - اب یوں نظر آتا ہے کہ شہر امرت سر میں کبھی کوئی احراری تھا ہی نہیں اور نہ کوئی لال قمیص - ارجن سنگھ عاجز ایڈیٹر اخبار رنگین امرت سر بحواله الفضل در اکتوبر ۳ه مث { د یاد رہے کہ امرتسر احرار کے مشہور لیڈروں کا شہر اور ان کا بہت بڑا مرکز تھا۔ناقل ) وقف جدید ایک اور بابرکت تحریکیت جماعت کی مالی جہاد اور قربانیوں کی تاریخ نہایت شاندار اور قابل رشک ہے۔اس عظیم مثالی کارنامہ کے پیچھے حضرت مصلح موعود کی ولولہ انگیز قیادت کا کسی قدر تذکرہ تحریک جدید کے ضمن میں ہو چکا ہے تحریک جدید کا اجرا ہ میں ہوا۔جبکہ حضور کی جوانی کا زمانہ اور شدید طوفانی مخالفت کی وجہ سے جماعت کے اندر غیر معمولی جذبہ و جوش کا زمانہ تھا۔مگر شہوا۔میں جبکہ حضور ایک ایسے خوفناک قاتلانہ حملہ سے دوچار ہو چکے تھے جس میں نادان دشمن کا دار شہ رگ سے چھوتے ہوئے اور اپنے اثرات پیچھے چھوڑتے ہوتے نکل گیا تھا۔اس کے نتیجہ میں حضور ایک انتہائی تکلیف دہ اعصابی بیماری میں مبتلا ہو چکے تھے۔مگر عمر کی زیادتی۔بیماری کی شدت ذمہ داریوں کے ہجوم میں ہمارا یہ خدا رسیدہ قائدہ ایک عجیب شان کے ساتھ جماعت کی روحانی ترقی اور تربیت کے لیے ایک نہایت وسیع پروگرام اس جماعت کے سامنے پیش