سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 294
۲۹۴ پر کامل ایمان ویقین رکھتے ہوں وہ استخارہ کے بعد اس مقصد کے لیے اپنے نام پیش کریں۔احقاق حق اور تبلیغ واشاعت کی غرض سے قائم ہونے والی جماعت کے لیے اتمام حجبت اور خدا تعالیٰ سے مدد اور فرقان مانگنے کا یہ ایک نادر موقعہ تھا جس کے لیے ہزاروں کی تعداد میں احباب نے اپنے نام پیش کئے اور نہایت عاجزی اور اصرار سے درخواست کی کہ ان کے نام ضرور اس فہرست میں شامل کئے جائیں۔یہ لکھنے کی تو چنداں ضرورت نہیں ہے کہ سید صاحب دعوتِ مباہلہ دینے کے بعد اس مکانی مقابلہ پر آنے کی جرات نہ کر سکے اور اس طرح یہ امر بھی احباب جماعت کیلئے ازدیاد ایمان کا باعث ہوا۔تصویر کا دوسرا رخ : آیتے اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں کہ مسیح محمدی کی بھیڑوں کا گلہ بان اور احمدیت کا کشتی بان حضرت مصلح موعود طوفانوں کی زد میں آتی ہوئی اور بغض و عداوت کی منجدھار میں پھنسی ہوئی اس چھوٹی سی کشتی کو کس طرف لے جا رہا ہے اور کس طرح لے جا رہا ہے۔انسانی عقل یقیناً اپنے عجز کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گی جب وہ یہ دیکھے گی کہ بالمقابل کوئی نعرہ نہیں ہے۔کوئی تعلی نہیں ہے۔کوئی دھمکی نہیں ہے کہ ہم تمہیں سیدھا کر دیں گے ہم یہ کریں گے اور وہ کریں گے بلکہ چشم حیران اس نفس مطمئنہ کو اور زیادہ عاجزانہ راہیں اختیار کرتے ہوئے اسی طرح دیکھتی ہے جس طرح اس کے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن فتح مکہ کی خوشی میں اکڑنے کی بجائے اور زیادہ جھکتی جارہی تھی اور مسیح پاک کے فرمان - نہاں ہم ہو گئے یار نہاں میں " کی حسین و دلکش عملی تفسیر کرتے ہوئے دیکھتی ہے۔حضرت مصلح موعود کے خطبات و تقاریر کو بطور خلاصہ اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے : " ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہیئے کہ ہمارا مقصد فتح نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کی فتح حاصل کرنا ہے۔ہمارا مقصد دین اور اسلام کے مطابق فتح حاصل کرنا ہے اور یہ چیزیں مل نہیں ہوتیں جب تک انسان خدا کے لیے موت قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔موت اور صرف موت کے ذریعہ یہ فتح حاصل ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔پھر موت بھی ایک وقت کی نہیں بلکہ وہ جو ہر منٹ اور ہر گھڑی آتی ہے۔پس اپنے نفوس میں تبدیلی پیدا کرو۔قلوب کو پاک کرو۔زبانوں کو شائستہ اور اپنے آپ کو اس امر کا عادی بناؤ کہ خدا کے لیے دُکھ اور تکلیفوں کو برداشت کر سکو۔تب تم خُدا کا