سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 293 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 293

۲۹۳ جاتے (نصیب دشمناں ) اور یہ کہ جماعت احمدیہ کا بھی یہی عقیدہ ہے تو کیوں احرار کے لیڈروں نے میرے الفاظ کے مترادف الفاظ میں بالمقابل قسم شائع نہیں کر دی اگر وہ بھی قسم کھا لیتے لوگوں کو پتہ چل جاتا کہ وہ بھی مباہلہ کے لیے تیار ہیں یا پھر میرے پیش کردہ شرائط ہی شائع کر دیتے اور لکھ دیتے کہ ہمیں یہ منظور ہیں یا کو الفضل ۱۹ نومبر ۱۹۳۵-) احراریوں کا مباہلہ سے فرار اتنا واضح اور نمایاں تھا کہ یہ ان کی دُکھتی رگ بن گئی جسے چھیڑتے ہوئے ایک مشہور صحافی نے یہاں تک لکھ دیا۔" میں مرزا بشیر الدین محمود نہیں جس سے مباہلہ کرنے کا نام مٹن کو رہنمایان احرار کے بدن پر رعشہ طاری ہو جاتا ہے ؟ احسان یکم نومبر ۳- بحواله الفضل ، نومبر ۱۹۳۵-) آسمانی میں عدو میرا زمینی اس لیے میں فلک پر انٹر رہا ہوں اسکو ہے بل کی تلاش مصلح موعود ) اس سے قبل انہ میں سید محمد شریف صاحب گھڑیالہ امیر جماعت اہلِ حدیث نے حضور کو مباہلہ کا چیلنج دیا اور بغیر تراضی فریقین اپنی طرف سے تاریخ اور جگہ کا بھی اعلان کر دیا۔اس موقعہ پر بھی کوئی ذاتی الزامات اور بہتک عزت کی صورت نہیں تھی جسے حضور ہمیشہ نظر انداز فرما دیا کرتے تھے بلکہ سلسلہ کی سچائی اور عظمت کا سوال تھا اس لیے حضور نے فوراً یہ چیلنج قبول کرتے ہوئے انہیں مسنون طریق مباہلہ اور اس کے انعقاد کے لیے معقول طریق کی طرف رہنمائی فرماتے ہوئے اپنی طرف سے ان امور کے تصفیہ کے لیے حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی۔اور حضرت مولوی فضل دین صاحب وکیل کو اپنا نمائندہ مقرر فرمایا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت سے مخالفین کا طریق چلا آتا ہے کہ وہ ایسے مواقع کو مختلف غیر شرعی اور لایعنی عذرات سے ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں۔سید صاحب موصوف نے بھی یہی طریق اختیار کیا۔حضور نے انکے عذروں کی حقیقت بتانے اور انہیں اس روحانی مقابلہ پر قائم رکھنے کے لیے یکے بعد دیگرے تین مضامین شائع فرماتے جن میں نہایت شرح وبسط سے ان کے تمام اعتراضات کا منقولی و معقولی مدلل و مسکت جواب دیا گیا تھا۔حضور نے اس موقعہ پر مباہلہ میں جماعت کے نمائندہ وفد کی تیاری کے لیے اعلان فرمایا کہ ایسے احمدی حضرات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی کی سچائی اور صداقت