سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 295
۲۹۵ تمام ہتھیار ہو جاؤ گے او پھر خدا ساری دنیا کو کھینچ کر تمہاری طرف لے آتے گا۔۔۔تحریک جدید کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوتے آپ فرماتے ہیں :۔تحریک جدید کی غرض بھی یہی ہے کہ وہ لوگ جو اس ---- - میں حصہ لیں خدا ان کے ہاتھ بن جائے۔خدا ان کے پاؤں بن جائے۔خدا ان کی آنکھیں بن جاتے اور خدا ان کی زبان بن جاتے اور وہ ان نوافل کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے ایسا اتصال پیدا کرلیں کہ ان کی مرضی خدا کی مرضی اور ان کی خواہشات خدا کی خواہشات ہو جائیں " الفضل ۲۷ جون ۹۲ ) دُعاؤں - انابت الی اللہ تزکیہ نفس - اسلامی تمدن و طریق کے مطابق زندگی بسر کرنے یعنی تحریک جدید کی الہامی و انقلابی سکیم پر عمل کرنے سے مخالفت کے طوفان کا رخ کس طرح تبدیل ہوا اس کا بیان حضرت فضل عمر سے بہتر کون کر سکتا ہے۔آپ فرماتے ہیں :- اسی طرح احرار میرے مقابل پر اُٹھے، احرار کو بعض ریاستوں کی بھی تائید حاصل تھی کیونکہ کشمیر کیٹی کی صدارت جو میرے سپرد کی گئی تھی اس کی وجہ سے کئی ریاستوں کو یہ خیال پیدا ہوگیا تھا کہ اس زور کو توڑنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ سیکسی اور ریاست کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔احرار نے ہفتہ میں شورش شروع کی اور اس قدر مخالفت کی کہ تمام ہندوستان کو ہماری جماعت کے خلاف بھڑ کا دیا۔اس وقت مسجد میں منبر پرکھڑے ہو کر میں نے ایک خطبہ میں اعلان کیا کہ تم احرار کے فتنہ سے مت گھیراؤ " خدا مجھے اور میری جماعت کو فتح دیگا کیونکہ خدا نے جس راستہ پر مجھے کھڑا کیا ہے وہ فتح کا راستہ ہے جو تعلیم مجھے دی ہے وہ کامیابی تک پہنچانے والی ہے اور جن ذرائع کے اختیار کرنے کی اس نے مجھے توفیق دی ہے وہ کامیاب و با مراد کرنے والے ہیں۔اسکے مقابلہ میں زمین ہمارے دشمنوں کے پاؤں سے نکل رہی ہے اور میں ان کی شکست کو ان کے قریب آتے دیکھ رہا ہوں۔وہ جتنے زیادہ منصوبے کرتے اور اپنی کامیابی کے نعرے لگاتے ہیں اتنی ہی نمایاں مجھے ان کی موت دکھائی دیتی ہے " الفضل ۳۰ رمتی ۱۹۳۵ ( تحریک جدید کے اغراض و مقاصد میں سے ایک بنیادی مقصد بیان کرتے ہوئے حضور نے ارشاد فرمایا :- س