سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 271 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 271

۲۷۱ کانگریس کا ایک حصہ اور جزو ہونے کی وجہ سے ان کا یہ طریق عمل قدرتی اور طبعی نظر آتا ہے۔یہاں تک ہی نبی نہیں کہ اُن کا قیام کا نگر میں کا مرہون منت تھا۔بلکہ ان کی خلاف اسلام دپاکستان سرگرمیوں کے لیے اخراجات کسی سلم تنظیم یا جماعت کی طرف سے نہیں بلکہ کانگریس کے ہند وسرمایہ داروں کی طرف سے ادا کئے جاتے تھے۔احرار کے سر پرست مجلس احرار کے پر جوش ممبر شورش کا شمیری جو ایک وقت میں جنرل سیکرٹری کے عہدہ پر بھی فائز رہے اور سید عطا اللہ شاہ بخاری سے عقیدت اور جماعت احمدیہ کی مخالفت میں اپنے آپ کو سرخیل سمجھتے تھے لکھتے ہیں :- " جب مولانا (مظہر علی) دھتکار کر جانے لگے تو شاہ جی نے روک لیا۔مولوی صاحب آپ کہاں جا رہے ہیں۔آپ تشریف رکھیں آپ کے خلاف یا جماعت کے خلاف شورش کچھ چارج لگا رہا ہے ؟ مولوی صاحب رُک گئے۔میں نے ترتیب وار چارج لگانے شروع کئے۔کانگریس کا روپیہ ساٹھ ہزار دس ہزار کی ایک قسط اور پچاس ہزار کی دوسری قسط اور یونینسٹ پارٹی۔۔۔۔۔۔۔کچھ دیر تو سناٹا چھایا رہا۔پھر سکوت ٹوٹا۔مولانا نے تسلیم کیا کہ روپیہ لیاگیا ہے لیکن اس وقت ان کے ذہن میں صحیح یاد نہیں کہ یہ رقم کتنی ہے بات صبح پر ملتوی ہو گئی۔۔۔---- رات جو گزری سو گزری صبح پھر وہی حیص بیص صاحبزادہ صاحب نے ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں کہیں یہ کہہ دیا کہ شورش اپنے الزام واپس لیتا ہے۔میں موجود نہ تھا۔جب پہنچا تو مجھے حیرت ہوئی۔خیر دوبارہ وہی قصہ چھڑ گیا۔مولانا مظہر علی نے تسلیم کیا کہ روپیہ لیا گیا ہے لیکن اس کے سزا وار وہ تنہا نہیں بلکہ باقاعدہ مشورہ سے رقم قبول کی گئی ہے۔۔۔۔۔پچاس ہزار روپے کی رقم کا چیک کا لالہ بھیم سین سحر کی تحویل میں دیا گیا جوان کی معرفت دفتر احرار میں پہنچا۔پھر اس رقم کی بندر بانٹ کی گئی۔۔۔۔۔۔۔جب مولا نا منظر علی نے بتایا کہ نواب زادہ نصر اللہ خاں کے سوا در کنگ کمیٹی کے ہر امید وار نے ان سے روپیہ لیا ہے تو سب نے تسلیم کیا۔شیخ حسام الدین بھی مان گئے۔ماسٹر تاج الدین نے بھی سر ہلا دیا۔مولانا حبیب الرحمن نے بھی صادر کیا۔اس مجموعی رقم میں سے لے دیگر صرف بیس ہزار بچتے تھے۔مولانا مظہر علی اظہر نے دس ہزار اپنے الیکشن کا صرفہ بتایا اور دس ہزار روپیہ کے متعلق کہا کہ وہ روزنامہ آزاد نکالنے