سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 272 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 272

۲۷۲ کے لیے جمع رکھا گیا ہے ؟ تحریک پاکستان اور نیشنلسٹ علما - صفحه ۱۴ - ۱۶ - چٹان ۱۶ اپریل الته ) دین حق کی مخالفت اور ریشہ دوانیوں کیلئے کانگریسی انعامات کے علاوہ ان کی غیبی امداد کے بعض اور ذرائع بھی تھے جن کا ذکر کرتے ہوئے تحقیقاتی عدالت نے تسلیم کیا کہ مخالف احمدیت تحریک کی سرپرستی کے لیے ایک سرکاری افسر نے تعلیم بالغاں کی مد سے دولاکھ میں ہزار روپے حاصل کئے بان اخراجات کی تفصیل بتاتے ہوئے عدالت نے لکھا : " اس تفصیل سے ظاہر ہے کہ مجموعی حیثیت سے ایک لاکھ روپیہ آفاق کو۔اٹھاون ہزارہ " احسان" کو۔پندرہ ہزارہ مغربی پاکستان کو اور میں ہزارہ زمیندار کو دیا گیا۔ان اخباروں کے لیے جن میں سے دو اخباروں کی اشاعتیں بہت کم تھیں یہ عطیات امدادِ غیبی سے کم نہ تھے اور وہ اس قدر ممنون اور زیر بار احسان تھے کہ اگر حکومت چاہتی تو جس پالیسی پر ان کو چلانا چاہتی وہ فوراً اسی پر کار بند ہو جاتے ، لیکن ان اخباروں کے تراشوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سب کے سب اس تنازع میں سرگرمی سے مصروف تھے اور جن دنوں میں انہیں یہ رقوم دی جا رہی تھیں ان دنوں میں بھی برابر اس شورش کی آگ کو ہوا دے رہے تھے " تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۸۴) گویا پاکستان دشمن اسلام دشمن حرکات بطور حق نمک ادا ہو رہی تھیں۔ان حالات میں اگر احرار نے جماعت احمدیہ کی (جو اسلام سے عقیدت و محبت اپنی قربانی کی روح اور ہندو چالوں کو بخوبی سمجھ کر ان کا توڑ کرنے والی تھی مخالفت اور اس مخالفت میں جھوٹ و نفرت کے ہتھیاروں کو استعمال کرنا ضروری سمجھا تو اس کی وجہ خوب سمجھ آتی ہے۔جماعت احمدیہ کی تاریخ کا ایک ایک ورق یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اس نے اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے مقصد کو سامنے رکھ کر اپنی جدوجہد کا آغا نہ کیا۔آریوں اور عیسائیوں کی مخالفانہ یورش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ہر وار جو اسلام یا بانی اسلام پر کیا گیا وہ اپنی چھاتیوں پر لیا۔تبلیغ اسلام کا جہاد شروع کیا۔ان باتوں کی مخالفت کوئی مسلمان یا اسلام کا درد رکھنے والا کیوں کرے گا۔اور یہی وجہ ہے کہ عملاً جماعت احمدیہ کی خدمات کو ہمیشہ بنظر استحسان ہی دیکھا گیا جس کا ثبوت اس کتاب اور احمدیہ لٹریچر میں بکثرت ملتا ہے۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ ہمارے عقائد اور مسلمات اور ہمارے حقوق اللہ و حقوق العباد کی ادائیگی کے تمام پروگرام کسی بھی