سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 270 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 270

دیا ہے۔ایسے سانچے بناتے نہیں جاسکتے وہ قدرت کے مخفی ہاتھوں سے صدیوں میں خود بخود بنا کرتے ہیں۔اب یہ سانچہ ڈھل چکا اور قسمت کی مہر اس پر لگ چکی ہم پسند کریں یا نہ کریں مگر اب ہم ایک ہندوستانی قوم اور ناقابل تقسیم ہندوستانی قوم بن چکے ہیں۔علیحدگی کا کوئی بناوٹی تخیل ہمارے اس ایک ہونے کو دو نہیں بنا سکتا۔۔۔۔۔(خطبات مولانا ابوالکلام آزاد م۳ ) مولانا ابوالکلام آزاد ہی کی اشیر باد سے مجلس احرار کی بنیاد رکھی گئی جیسا کہ مندرجہ ذیل دو حوالوں سے بخوبی واضح ہوتا ہے۔کے کانگریس کے اجلاس میں ۲۹؍ دسمبر ہ کو مولانا آزاد کے مشورہ پرال انڈیا کانگریس کے اسٹیج پر چودہری افضل حق صاحب کی صدارت میں مجلس احرار کا پہلا جلسہ ہوا۔۔۔۔۔احرار رہنماؤں نے یکسو ہو کر کانگریس کے نئے فارمولے پر غور کرنا شروع تحریک پاکستان اور نیشنلٹ علما ، صفحہ ۴۹۶ - ۴۹۷ ) کیا" - امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام صاحب آزاد کی موجودگی میں یہ مسئلہ پیش ہوا کہ مسلمانوں کی ایک علیحدہ آزاد خیال جماعت قائم کی جائے جو مسلمانوں کو مذہب کیسا تھ ساتھ وطنیت کا بھی سبق دیتی رہے۔۔۔۔۔۔سب نے اس پر اتفاق کیا۔۔۔۔۔باہمی مشورہ سے یہ طے پایا کہ اس مجلس کا نام مجلس احرار اسلام ہو جسے سب دوستوں نے بخوشی قبول اخبار مجاهد ار اگست - بحوالہ تاریخ احمدیت جلد ۷ صفحه ۳۹-۴۰) کر لیا ۹۳۵ اس مجلس نے اپنی ابتدا سے ہی مسلمانوں کے حق میں ہر مفید بات کی مخالفت بلکہ ہر اسلامی حکمت عملی کی مخالفت کو اپنا لائحہ عمل بنایا مسلم لیگ جس کے ذریعہ پاکستان کا حصول ممکن ہوا اس کی نفی کرتے ہوئے ایک مشہور احراری لیڈر لکھتے ہیں : ہندوستان میں صرف دو جماعتیں ہیں ایک کانگریس اور دوسری حکومت برطانیہ تاریخ احمدیت جلد ۷ ۳۲ - اخبار مشینل کانگریس ۳ جنوری ) ہندوؤں کے مفادات مجلس احرار کے اس حد تک مد نظر رہے کہ انہیں یہ اعتراف کرنا پڑا کہ :- ہماری ایماندارانہ رائے ہے کہ کانگریس سے علیحدہ ہو کر ہم نے جس قدر تحریکوں میں حصہ لیا ہے ان تمام میں بے کار وقت ضائع کیا اور فضول ہنگامے برپا کتے " 907 ر اخبار زمیندار ۲۱ جون له بحوالہ فسادات شاہ کا پس منظر مت )