سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 258
ا بدمين مولوی محمد اسماعیل غزنوی مولوی میرک شاہ کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :- " یہ کیا ہوا چلی کہ مذہبی لیڈر - علوم دینیہ کے ماہر آزادی و حریت کے راه نما فلسفہ و شعر میں کمال رکھنے والے سب کے سب نے مل کر میدم فیصلہ کر لیا کہ آو ایسا دھوکا کریں کہ سب دنیا احمدی ہو جائے۔میرے پاس وہ کونسا جادو تھا کہ ان سب کو میں نے اس سازش میں شامل کر لیا۔مولوی میرک شاہ صاحب اور خواجہ حسن نظامی صاحب بھی میرے ساتھ اس میں شامل ہو گئے۔پھر ابو بکر صاحب کو بنگال میں مذہبی لحاظ سے جو پوزیشن حاصل ہے وہ پنجاب میں ایک شخص کو بھی نہیں ہیں تیس لاکھ کے درمیان ان کے مرید ہیں۔انہوں نے بھی اپنے بیٹے کو اس سازش میں شریک کر دیا۔اور اگر یہ صحیح ہے کہ میں نے مسلمانوں کے ان تمام لیڈروں پر جادو کر دیا ہے تو کیا میں ایسا جادو سیالکوٹ کے عوام پر ہی نہیں کر سکتا۔وہ میرے فسوں سے بچ جانے کی امید کسی طرح کر سکتے ہیں۔میں تو اس صورت میں سیالکوٹ کی گلی گلی میں احمدیت پھیلا دوں گا۔جو قوم یہ تسلیم کرتی ہے کہ اس کے چوٹی کے لیڈروں پر میرا جادو چل گیا وہ کس طرح یہ گمان کر سکتی ہے کہ اس کے عوام محفوظ رہ سکتے ہیں مگر یہ کہنا میری نہیں خود ان لوگوں کی اپنی ہتک ہے جو الیسا کہتے ہیں۔یہ بات بالکل غلط ہے۔اگر ان لوگوں کو اس تحریک میں احمدیت کا ذرا بھی اثر نظر آتا تو ان کو کیا مجبوری تھی کہ میرے ساتھ اس طرح شامل ہو جاتے اگر مخالفت کا موقعہ ہوتا تو یقیناً یہی لوگ مخالفت کرتے جو اس وقت میرے ساتھ ہیں۔سو یہ محض وہم ہے بلکہ وہم بھی نہیں۔ہنگامی جوش کی وجہ سے جنون کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے جس کے باعث خلاف حقیقت باتیں ان لوگوں کی طرف سے کہی جارہی ہیں۔۔میں احرار والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر ان میں سے کوئی یہاں بیٹھا ہو تو جا کر اپنے دوستوں کو سُنا دے۔میں ان پتھروں کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں کرتا۔اور اس وجہ سے ان پر کوئی غصہ نہیں۔انہیں چاہتے کشمیر کے مظلوم بھائیوں کی خاطر اب بھی ان باتوں کو چھوڑ دیں۔وہ آئیں میں صدارت چھوڑنے کے لیے تیار ہوں، لیکن وہ عہد کریں کہ مسلمانوں کی اکثریت کے فیصلہ کی اتباع کریں گے۔ان کے اخلاق آج ہم نے دیکھے لیے ہیں۔وہ آئیں اور ہمارے اخلاق بھی دیکھیں۔میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ صدارت