سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 259 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 259

۲۵۹ چھوڑ دینے کے بعد بھی میں اور میری جماعت ان کے ساتھیوں سے بھی زیادہ ان کا ہاتھ بنائیں گے۔صدارت میرے لیے عزت کی چیز نہیں۔عزت خدمت سے حاصل ہوتی ہے۔ستید القوم خادمهم - اگر کام نہ کیا جائے تو صرف صدر بنے سے کیا عربت ہوسکتی ہے۔وہ تو ایسی ہی بات ہے کہ جیسے کوئی مجنون کے میں بادشاہ ہوں۔بغیر خدمت کے اعزازہ حاصل نہیں ہو سکتا۔میرے ذمہ تو پہلے ہی بہت کام ہے۔اتنی عظیم الشان جماعت کا میں امام ہوں۔اور اس قدر کام کرنا پڑتا ہے کہ بارہ ایک بجے سے پہلے شاید ہی کبھی سونا نصیب ہوتا ہو۔میں نے تو یہ بوجھ صرف اس لیے اُٹھایا ہے کہ کشمیری مسلمانوں کی آئندہ نسلیں دعائیں دیں گی۔اور کہیں گی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا بھلا کرے جن کی کوشش سے آج ہم آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ان کے لیے بھی موقع ہے کہ کشمیر میلوں سے دُعائیں لیں۔۔۔۔۔۔آخر میں سب حاضرین سے اور ان سب سے جن تک میرا یہ پیغام پہنچے کہتا ہوں کہ اُٹھو اپنے بھائیوں کی امداد کرو۔اپنے کام بھی کرتے رہو۔مگر کچھ نہ کچھ یاد ان مظلوموں کی بھی دل میں رکھو۔جہاں اپنے خانگی معاملات اور ذاتی تکالیف کے لیے تمہارے دلوں میں ٹیسیں اٹھتی ہیں وہاں ایک ٹیس ان مظلوموں کے لیے بھی پیدا کرو۔اور ان آنسوؤں کی جھڑیوں میں سے جو اپنے اور اپنے متعلقین کے لیے برساتے ہو اور نہیں تو ایک آنسو ان ستم رسیدہ بھائیوں کے لیے بھی ٹپکاؤ۔مجھے یقین ہے کہ تمہاری آنکھوں سے ٹپکا ہوا ایک ایک آنسو جس کی محرک سچی ہمدردی ہوگی۔ایک ایسا دریا بن جائے گا۔جوان غریبوں کے تمام مصائب کو خس و خاشاک کی مانند بہا کر لے جائیگا اور اس ملک کو آزاد کر دیگا الفضل ۲۴ ستمبر ٣ ) اس انتہائی کامیاب تحریک - جو قدم قدم کامیابی حاصل کرتی ہوئی تیزی سے کامل آزادی کی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔کے خلاف ڈوگرہ حکومت اور ہندو کانگریس نے اندرونی و بیرونی سازشوں کا جال پھیلا دیا۔شیخ محمد عبد اللہ صاحب کشمیر کے مسلم لیڈر تھے اور اپنی سیاسی زندگی کے آغاز سے ہی حضور کی رہنمائی و ہدایات کے مطابق کامیابیاں حاصل کر رہے تھے۔ایک ہندو لیڈر پنڈت پریم ناتھ بزاز