سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 244 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 244

۲۴۴ کانفرنس بخیر و خوبی ختم ہوئی۔بجائے تین دن کے کانفرنس برابر پانچ دن ہوتی رہی اور بڑی شان سے۔دستور اساسی نے بڑا وقت لیا۔۔۔۔۔۔۔۔الغرض جناب کی دُعا سے کانفرنس نهایت کامیاب رہی۔۔۔۔۔۔۔میرا بھی خیال ہے پنجاب آنے کا۔انشاء اللہ شرف قدم بوسی حاصل کرونگا۔احراری خیال کے چند افراد غلط پراپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ میں کشمیر کمیٹی کے ہاتھ کٹھ پتلی کا کھیل بنا ہوا ہوں کبھی کہتے ہیں کہ میرا عقیدہ بھی بدل گیا ہے۔مگر خدا وند کریم بہتر جانتا ہے کہ میں کون ہوں اور کیا ہوں۔اس لیے ہمیشہ ان کو ذلیل ہونا پڑتا ہے۔مجھے اُمید ہے کہ جناب کی دُعائیں ہمیشہ میرے شامل حال ہونگی۔آخر مجھے اپنا بچہ سمجھتے ہوتے مجھے حق حاصل ہونا چاہیئے کہ کبھی کبھی مجبوری کی وجہ سے جناب سے گستاخی کا بھی مرتکب ہو جاؤں اور پھر معافی بھی طلب کروں۔امید کرتا ہوں کہ جناب کا ارشاد گرامی جلد ہی میری تسلی کر دیگا۔شیخ محمد عبد الله " ۲۲/۱۰/۳۲ ( تاریخ احمدیت جلد ۶ صفحه ۶۰۱ ۲۰۲۰) چوہدری ظهور احمد صاحب ان خوشگوار یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔" راقم الحروف اس جلسہ میں شروع سے آخر تک موجود رہا۔تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد اللہ اکبر - اسلام زندہ باد اور صدر کشمیر کمیٹی زندہ باد کے نعرے بلند ہوتے تھے اور حاضرین خوشی سے اُچھلتے تھے۔اس جلسہ میں جو تین ریزولیوشن متفقہ طور پر منظور ہوئے ان میں سے سب سے پہلا آل انڈیا کشمیر کمیٹی اور اس کے محترم صدر کے شکریہ پرمشتمل تھا۔۔۔۔۔جلسہ سے فراغت کے بعد ہم لوگ کچھ دیر ٹھہرنے کے بعد جب رات گئے اپنے ہاؤس بوٹ پر پہنچے تو ہمارا ہاؤس بوٹ پھولوں ہاروں اور بجلی کے قمقموں سے روشن تھا اور گھاٹ پر بھی چراغاں تھا۔یہ سب کام رضا کاروں نے خود بخود کیا تھا۔ان میں بخشی غلام محمد اور خواجہ غلام قادر ڈکٹیٹر نخواجہ غلام محمد صادق اور خواجہ غلام محی الدین کرہ پیش پیش تھے۔اور یہ سب دوسرے رضا کاروں کے ہمراہ موجود تھے۔ہمارے ہاؤس بوٹ پر پہنچتے ہی ان لوگوں نے پھر خوشی سے نعرے لگاتے۔(کشمیر کی کہانی صفحہ ۱۱۷ - ۱۱۸) اس کانفرنس کو غیر معمولی مقبولیت اور کامیابی حاصل ہوتی۔اس کی شاخیں جموں و کشمیر مں ایک اندند