سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 245 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 245

۲۴۵ سرے سے دوسرے تک پھیل گئیں۔ایک موقعہ پر جب اس کانفرنس کی ورکنگ کمیٹی نے بعض مطالبات کے سلسلہ میں راست اقدام کا اعلان کرنے کے لیے اجلاس بلایا تو ریاستی حکام نے کہا که اجلاس بلانے کی ضرورت نہیں۔مطالبات تسلیم کہتے جاتے ہیں۔اس متحدہ سیاسی پلیٹ فارم کی اہمیت اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ ۲۷ دسمبر کو سرینگر میں ایک عظیم جلسہ میں شیخ محمدعبدالله خواجہ غلام احمد اشنائی اور چوہدری غلام عباس نے اتحاد کی برکات بیان کرتے ہوئے مسلمانوں کو بتایا کہ احمدی غیر احمدی سوال اُٹھا نا ریاست کے باشندوں کے مفاد کے منافی ہے۔ایک شیعہ نمائندہ نے اپنے پیغام میں یہ بھی یاد دلایا کہ جب انتخاب نمائندگان ہوا تھا تو ہم تمام نمائندگان نے اپنا اصول بنا رکھا تھا بلکہ ایک قسم کا حلف لیا تھا کہ فرقہ وارانہ سوال کو کبھی عامہ المسلمین ہی نہیں اٹھانا چاہیے۔اور تمام فرقوں کو خواہ وہ کتنی ہوں یا شیعہ۔اہل حدیث ہوں یا احمدی - مقلد ہوں یا غیر مقلد متحد اور متفق ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ اس تحریک میں اشتراک عمل کرنا چاہیئے۔انقلاب ۴ جنوری ۳۳ ه ) ( تاریخ احمدیت جلد ۶ صفحه ۶۰۴ ) کشمیری مسلمانوں کے حقوق کے حصول کی جدوجہد ایک طویل داستان ہے وہ لوگ جنہوں نے اس جہاد میں حضور کے ساتھ شامل ہو کر حصہ لیا وہ بتاتے ہیں کہ حضور نے اس کام کے لیے دن رات ایک کر دیا تھا اور جماعت کے ہر طبقہ کے لوگوں میں سے رضا کار حضور کی تفصیلی ہدایات کے مطابق ہندوستان اور کشمیر میں ہی نہیں انگلستان اور دوسرے ممالک میں بھی سرگرم عمل ہو گئے تھے۔اس سلسلہ میں سیالکوٹ کا ایک جلسہ حضور کے آہنی عزم و ارادہ اور یقین و استقامت کا ایک نشان بن گیا۔حضور آل انڈیا کشمیر کیٹی کے ایک اجلاس کی صدارت کے لیے سیالکوٹ تشریف لے گئے اجلاس کے بعد کمیٹی کے بعض ممبروں نے حضور کی خدمت میں سیالکوٹ کے عوام کی طرف سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ حضور ان سے جلسہ عام میں خطاب فرمائیں جسے حضور نے منظور فرمالیا اور استمبر داستہ) کو جلسہ ہونا قرار پایا۔احمدیت کے حساد اور سچائی کے ازلی مخالفوں کو حضور کی یہ مقبولیت اور ہر دلعزیزی ایک آنکھ نہ بھائی اور انہوں نے مخالفانہ پروپیگینڈہ اور اشتعال انگیزی شروع کر دی جسے دیکھتے ہوئے جلسہ کے منتظمین نے حضور کی خدمت میں تمام حالات پیش کر کے اور متوقع خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے جلسہ میں شامل ہونے سے روکنا چاہا مگر حضور اپنے پروگرام پر فَاذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى الله کا مظاہرہ کرتے ہوئے پتھروں کی بارش میں سے ہوتے ہوئے جلسہ گاہ میں پہنچ گئے۔باوجود اس کے کہ احمدی فدائی حضور کے اردگرد پروانہ وار