سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 229
۲۲۹ گرد و پیش رہتا ہے۔اور ریاست کی بدقسمتی سے اس وقت ریاست کے سیاہ وسفید کا مالک بن رہا ہے۔اس لیے مہا راجہ صاحب بہادر جموں و کشمیر بھی یا تو اس عنصر کے بڑھے ہوئے نفوذ سے خوف کھا کر یا بوجہ نا واقفیت کے ان کی پالیسی کونہ سمجھتے ہوتے کسی مخالف آواز کے سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ہر ایک شخص اس بات کو جانتا ہے کہ مسٹر ویکفیلڈ چند سال پہلے ریاست میں سب سے بڑی طاقت سمجھے جاتے تھے لیکن یہ امر بھی ہر شخص کو معلوم ہے کہ مسٹر ویکفیلڈ کی اب وہ حالت نہیں ہے۔کشمیر میں مسلمانوں کو حقوق دینے کے متعلق جو تجاویز تھیں ان کا جو حشر ہوا۔اس سے مسٹر ویکفیلڈ کی طاقت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔پس ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوتے میرے نزدیک مسٹر ویکفیلڈ کے وعدہ پر اعتبار کرتے ہوئے خواہ ہم ان کی نیت کو کتنا ہی صحیح سمجھیں نہیں اپنی کوششوں کو ترک نہیں کرنا چاہیئے۔تمام مسلمانوں کا فرض کشمیر ایک ایسا ملک ہے۔جسے صنعت و حرفت کا مرکز بنایا جا سکتا ہے اس ملک کے مسلمانوں کو ترقی دیگر ہم اپنی صنعتی اور حرفتی پستی کو دور کر سکتے ہیں۔اس کی آب و ہوا ان شدید تغیرات سے محفوظ ہونے کی وجہ سے جو پنجاب میں پائے جاتے ہیں۔بارہ مہینے کام کے قابل ہے۔ہندوستان کی انڈسٹریل ترقی میں اس کا موسم بہت حد تک روک ہے، لیکن کشمیر اس روک سے آزاد ہے۔اور پھر وہ ایک وسیع میدان ہے جس میں عظیم الشان کارخانوں کے قائم کرنے کی پوری گنجائش ہے پس تمام مسلمانوں کا یہ فرض ہونا چاہیئے کہ وہ اس ملک کو اس تباہی سے بچانے کی کوشش کریں جس کے سامان بعض لوگ پوری طاقت سے پیدا کر رہے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمان اخبارات جیسے "انقلاب" مسلم اوٹ لک" "سیاست اور سن رائز" اور اسی طرح نیا اخبار "کشمیری مسلمان " جموں اور کشمیر کے مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت میں بہت کچھ حصہ لے رہے ہیں لیکن خالی اخبارات کی کوششیں ایسے معاملات کو پوری طرح کامیاب نہیں کر سکتیں۔ضرورت ہے کہ ریاست کشمیر کو اور گورنمنٹ کو پوری طرح اس بات کا یقین دلا دیا جائے کہ اس معاملہ میں سارے کے سارے مسلمان خواہ وہ بڑے ہوں یا کہ چھوٹے ہوں کشمیر کے سلمانوں کی تائید اور حمایت پر ہیں۔اور ان مظالم کو جو