سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 230
۲۳۰ وہاں کے مسلمانوں پر جائز رکھے جاتے ہیں کسی صورت میں برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں۔ریاست پر اور گورنمنٹ پر زور ڈالنے کے سلمان مفقود نہیں ہیں۔ہم دونوں طرف زور ڈال سکتے ہیں۔ضرورت صرف متحدہ کوشش اور عملی جدوجہد کی ہے۔مسلمانوں کے مطالبات میں نے ان مطالبات کو جو مسلمانان کشمیر کی طرف سے مسٹرویکفیلڈ کے پیش ہوتے ہیں۔دیکھا ہے۔میرے نزدیک وہ نہایت ہی معقول اور قلیل ترین مطالبات ہیں اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں۔ان میں اس مطالبہ کو بھی شامل کرنے کی ضرورت ہے سرہ کشمیر کے علاقہ میں انجمنیں قائم کرنے پر جو روک پیدا کی جاتی ہے اس کو بھی دور کیا جائے۔جہاں تک مجھے علم ہے یہی پونچھ کے علاقہ میں بھی روک ہوتی ہے اور اجازت کی ضرورت ہوتی ہے یعنی جس طرح تحریر و تقریر کی مکمل آزادی کا مطالبہ کیا گیا ہے اسی طرح اجتماع کی مکمل آزادی کا بھی مطالبہ کیا جائے۔اور میرے نزدیک علاقہ کشمیر کے مسلمانوں کے زمیندارہ حقوق جو ہیں ان پر نظر ثانی کا مطالبہ بھی ہونا چاہیئے۔کشمیر کے مسلمانوں کا بیشتر حصہ زمیندار ہے، لیکن وہ لوگ ایسے قیود میں جکڑے ہوئے ہیں کہ سر اٹھانا ان کے لیے ناممکن ہے۔عام طور پر کشمیر کے علاقہ میں کسی نہ کسی بڑے زمیندار کے قبضہ میں جائیدادیں ہوتی ہیں۔اور وہ لوگ انہیں تنگ کرتے رہتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دو چار مسلمان زمیندار بھی ہیں، لیکن دو چار مسلمانوں کی وجہ سے کشمیر کے لاکھوں مسلمانوں کو غلام نہیں بنے رہنے دینا چاہیئے۔مسٹر ویکفیلڈ کے وعدوں کے نیچے خطرہ کا احتمال جہاں تک میں سمجھتا ہوں۔اگر ہمیں کشمیر و جموں کے مسلمانوں کی آزادی کا سوال حل کرنا مطلوب ہے تو اس کا وقت اس سے بہتر اور نہیں ہو سکتا۔ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے نتیجہ میں قدرتی طور پر انگلستان اپنے قدم مضبوط کرنے کیلئے ریاستوں کو آئندہ بہت زیادہ آزادی دینے پر آمادہ ہے۔اگر اس وقت کے آنے سے پہلے جموں اور کشمیر کے مسلمان آزاد نہ ہو گئے تو وہ بیرونی دباؤ جو جمہوں اور کشمیر ریاست پر آج ڈال سکتے میں کل نہیں ڈال سکیں گے۔پس میرے نزدیک اس بات کی ضرورت ہے کہ ایک کانفرنس