سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 368
رہا ہوں۔اور بڑے زور سے تقریر کر رہا ہوں۔رویا میں ہی مجھے خیال آتا ہے کہ ان لوگوں کی زبان تو عربی نہیں۔یہ میری باتیں کس طرح سمجھیں گے مگر میں محسوس کرتا ہوں کہ گو ان کی زبان کوئی اور ہے مگر یہ میری باتیں خوب سمجھتے ہیں۔چنانچہ میں اسی طرح اُن کے سامنے عربی میں تقریر کر رہا ہوں۔اور تقریر کرتے کرتے بڑے زور سے اُن کو کہتا ہوں کہ تمہارے یہ بہت اس پانی میں غرق کئے جائیں گے اور خدائے واحد کی حکومت دنیا میں قائم کی جائے گی۔ابھی میں یہ تقریر کر ہی رہا تھا کہ مجھے معلوم ہوا کہ اسی کشتی نما بنت والا بت پرستی کو چھوڑ کر میری باتوں پر ایمان سے آیا ہے اور موجد ہو گیا ہے اس کے بعد اثر بڑھنا شروع ہوا اور ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد میرا اور تیسرے کے بعد جو تھا اور چوتھے کے بعد پانچواں شخص میری باتوں پر ایمان لاتا اور مشرکانہ باتوں کو ترک کرتا اور مسلمان ہوتا چلا جاتا ہے۔اتنے میں ہم جھیل پار کر کے دوسری طرف پہنچ گئے۔جب ہم جھیل کے دوسری طرف پہنچ گئے تو میں اُن کو حکم دیتا ہوں کہ ان بتوں کو جیسا کہ پیشگوئی میں بیان کیا گیا تھا۔پانی میں غرق کر دیا جائے اس پر جو لوگ موحد ہو چکے ہیں وہ بھی اور جو ابھی موقد تو نہیں ہوتے مگر ڈھیلے پڑ گئے ہیں۔میرے سامنے جاتے ہیں اور میرے حکم کی تعمیل میں اپنے بتوں کو جھیل میں غرق کر دیتے ہیں۔اور میں خواب میں حیران ہوں کہ یہ تو کسی تیرنے والے مادے کے بنے ہوئے تھے۔یہ اس آسانی سے جھیل کی تہ میں کس طرح پہلے گئے۔صرف پجاری پکڑ کر ان کو پانی میں غوطہ دیتے ہیں اور وہ پانی کی گہرائی میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔اس کے بعد میں کھڑا ہو گیا اور پھر انہیں تبلیغ کرنے لگ گیا۔کچھ لوگ تو ایمان لا چکے تھے۔مگر باقی قوم جو ساحل پر تھی۔ابھی ایمان نہیں لائی تھی۔اس لیے میں نے ان کو تبلیغ کرنی شروع کر دی۔یہ تبلیغ میں ان کو عربی زبان میں ہی کرتا ہوں۔جب میں انہیں تبلیغ کر رہا ہوں تاکہ وہ لوگ بھی اسلام لے آئیں تو یکدم میری حالت میں تغیر پیدا ہوتا ہے اور مجھے یوں معلوم سلام میں ہوتا ہے کہ اب میں نہیں بول رہا بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الہامی طور پر میری زبان پر باتیں جاری کی جارہی ہیں جیسے خطبہ الہامیہ تھا۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جاری ہوا۔غرض میرا کلام اس وقت بند ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ میری زبان سے بولنا شروع ہو جاتا ہے بولتے بولتے ہیں بڑے زور سے ایک