سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 369
شخص کو جو غالباً سب سے پہلے ایمان لایا تھا۔غالباً کا لفظ میں نے اس لیے کہا کہ مجھے یقین نہیں کہ رہتی تشخص پہلے ایمان لایا ہو ہاں غالب گمان یہی ہے کہ وہی شخص پہلا ایمان لانے والا یا پہلے ایمان لانے والوں میں سے با اثر اور مفید وجود تھا۔بہر حال میں یہی سمجھتا ہوں کہ وہ سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہے اور میں نے اس کا اسلامی نام عبد الشکور رکھا ہے۔میں اس کو مخاطب کرتے ہوتے بڑے زور سے کہتا ہوں کہ جیسا کہ پیشگوئیوں میں بیان کیا گیا ہے۔میں اب آگے جاؤں گا۔اس لیے اسے عبدالشکور تجھے کوئیں اس قوم میں اپنا نائب مقرر کرتا ہوں۔تیرا فرض ہو گا کہ میری واپسی تک اپنی قوم میں توحید کو قائم کرے اور شرک کو مٹا دے۔اور تیرا فرض ہو گا کہ اپنی قوم کو اسلام کی تعلیم پر عامل بناتے ہیں واپس آکر تجھ سے حساب لوں گا اور دیکھوں گا کہ تجھے ہیں نے جن فرائض کی سرانجام دہی کے لیے مقرر کیا ہے اُن کو تو نے کہاں تک ادا کیا ہے۔اس کے بعد وہی الہامی حالت جاری رہتی ہے اور میں اسلام کی تعلیم کے اہم امور کی طرف اُسے توجہ دلاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ تیرا فرض ہو گا کہ ان لوگوں کو سکھاتے کہ اللہ ایک ہے اور محمد اس کے بندہ اور رسول ہیں۔اور کلمہ پڑھتا ہوں اور اس کے سکھانے کا اسے حکم دیتا ہوں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے کی اور آپ کی تعلیم پر عمل کرنے کی اور سب لوگوں کو اس ایمان کی طرف بلانے کی تلقین کرتا ہوں جس وقت میں یہ تقریر کر رہا ہوں (جو خود الہامی ہے، یوں معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کے وقت اللہ تعالیٰ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میری زبان سے بولنے کی توفیق دی ہے اور آپ فرماتے ہیں انا محمد عبده ورسوله اسکے بعد حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذکر پربھی ایسا ہی ہوتا ہے اور آپ فرمتے ہیں انا المسلح الموعود اس کے بعد میں ان کو اپنی طرف توجہ دلاتا ہوں۔چنانچہ اس وقت میری زبان پر جو نفرہ جاری ہوا وہ یہ ہے دانا المسلح الموعود مثيله وخليفته اور میں بھی مسیح موعود ہوں۔یعنی اس کا مثیل اور اس کا خلیفہ ہوں۔تب خواب نہیں ہی