سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 367 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 367

ہوتی ہیں۔۔عرض میں اس راستہ پر چنا شروع ہوا اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ دہن بہت پیچھے رہ گیا ہے۔اتنی دور کہ نہ اس کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی ہے اور نہ اُس کے آنے کا کوئی امکان پایا جاتا ہے۔مگر ساتھ ہی میرے ساتھیوں کے پیروں کی آہٹیں بھی کمزور ہوتی چلی جاتی ہیں۔اور وہ بھی بہت پیچھے رہ گئے ہیں مگر میں دوڑتا چلا جاتا ہوں اور زمین میرے پیروں کے نیچے سمٹی چلی جارہی ہے۔اس وقت میں کہتا ہوں کہ اس واقعہ کے متعلق جو پیش گوئی تھی۔اس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس رستہ کے بعد پانی آئے گا اور اس پانی کو عبور کرنابہت مشکل ہوگا۔اس وقت میں رستے پر چلتا تو چلا جاتا ہوں۔مگر ساتھ ہی کہتا ہوں۔وہ پانی کہاں ہے ؟ جب میں نے کہا۔وہ پانی کہاں ہے تو یکدم میں نے دیکھا کہ میں ایک بہت بڑی جھیل کے کنارے پر کھڑا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس جھیل کے پار ہو جانا پیشگوئی کے مطابق ضروری ہے۔میں نے اس وقت دیکھا کہ جھیل پر کچھ چیزیں تیر رہی ہیں۔وہ ایسی لمبی ہیں جیسے سانپ ہوتے ہیں اور ایسی باریک اور ہلکی چیزوں سے بنی ہوئی ہیں جیسے بیتے وغیرہ کے گھونسلے نہایت باریک تنکوں کے ہوتے ہیں۔وہ اوپر سے گول ہیں جیسے اثر دھا کی پیٹھ ہوتی ہے اور رنگ ایسا ہے جیسے بیٹے کے گھونسلے سے سفیدی۔زردی اور خاکی رنگ ملا ہوا۔وہ پانی پر تیر رہ ہی ہیں اور اُن کے اوپر کچھ لوگ سوار ہیں جو ان کو چلا رہے ہیں۔خواب میں میں سمجھتا ہوں۔یہ بت پرست قوم ہے اور یہ چیزیں جن پر یہ لوگ سوار ہیں، اُن کے بت ہیں اور یہ سال میں ایک دفعہ اپنے بتوں کو نہلاتے ہیں۔اور اب بھی یہ لوگ اپنے بتوں کو سہلانے کی غرض سے مقررہ گھاٹ کی طرف لے جارہے ہیں جب مجھے اور کوئی چیز پارے جانے کے لیے نظر نہ آئی تو میں نے زور سے چھلانگ لگائی اور ایک بت پر سوار ہو گیا۔تب میں نے سُنا کہ مبتوں کے پجاری زور زور سے مشرکانہ عقائد کا اظہارہ منتروں اور گیتوں کے ذریعہ سے کرنے لگے۔اس پر میں نے دل میں کہا کہ اس وقت خاموش رہنا غیرت کے خلاف ہے اور بڑے زور زور سے میں نے توحید کی دعوت ان لوگوں کو دینی شروع کی اور شرک کی براتیاں بیان کرنے لگا۔تقریر کرتے ہوئے مجھے یوں معلوم ہوا کہ میری زبان اُردو نہیں بلکہ عربی ہے۔چنانچہ میں عربی میں بول