سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 281
۲۸۱ ہیں یہ قدم اُٹھا نا پڑا تو بالکل ممکن ہے ایک وقت تمہیں تلوار کی دھار پر چلنا پڑے۔ایک طرف تو میری اطاعت کے متعلق ذراسی خلش بیعت سے خارج کر دینے والی ہوگی اور دوسری طرف ذرا سا عدوان جو حکومت کی اطاعت سے برگشتہ کر دے۔تمہیں حضرت میسج موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی تعلیم سے منحرف کر دے گا۔ان دونوں حدود کے اندر رہتے ہوئے تمہیں ہر ایک قسم کی قربانی کرنی ہوگی۔اور سلسلہ کے وقار کو قائم کرنے کے لیے ہر ایک جدوجہد کرنی پڑے گی۔آپ لوگوں کو یاد رکھنا چاہتے کہ ہمارے لیے یہ وقت بہت نازک ہے۔ہر طرف سے مخالفت ہو رہی ہے اور اس کا مقابلہ کرتے ہوئے سلسلہ کی عزت اور وقار کو قائم رکھنا آپ لوگوں کا فرض ہے۔ایک دفعہ ایک پرائیویٹ میٹنگ کے موقعہ پر سردار سکندر حیات خان کے مکان پر چودھری افضل حق صاحب نے مجھے یہ کہا تھا کہ ہمارا مقصد یہی ہے کہ احمدیہ جماعت کو کچل دیں۔پس دشمنوں نے ہمیں چیلنج دیا ہے۔پس جب تک تمہاری رگوں میں خون کا ایک قطرہ بھی باقی ہے تمہارا فرض ہے کہ اس چیلنج کو منظور کرتے ہوتے اس گروہ کے زور کو جو یہ دھمکیاں دے رہا ہے۔توڑ کر رکھ دو۔اور دنیا کو بتا دو کہ تم پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرسکتے ہو سمندروں کو خشک کر سکتے ہو۔اور جو بھی تمہارے تباہ کرنے کے لیے اُٹھے وہ خواہ کسقدر طاقت ور حریف کیوں نہ ہو۔اسے خدا تعالیٰ کے فضل سے اور جائز ذرائع سے تم مٹاسکتے ہو۔کیونکہ تمہارے مٹانے کی خواہش کرنے والا در حقیقت خدا تعالی کے دین کو مٹانے کی خواہش کرتا ہے۔۔۔۔۔۔جہاں میں آپ لوگوں کو اس بات کی ہدایت کرتا ہوں کہ کسی جوش کی حالت میں آپ میں سے کوئی بھی قانون شکنی کی طرف توجہ نہ کرنے ہاں حکومت کو بھی اس نہایت ضروری امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے افسران کو شرافت اور اخلاق کی تعلیم دے " جلسہ قادیان میں احرار کی اشتعال انگیزی حضور کی ہدایت کے مطابق احمدیوں کے غیر معمولی صبر تحمل اور بعض سرکاری افسروں کی جانبداری اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کے متعلق تفصیل سے بیان کرنے کے بعد حضور نے سرکاری نوٹس کا ذکر فرمایا جو ذیل میں درج ہے۔" حکم زیر سیکشن ۳ (۱) (۱) پنجاب کر بیل لا۔امنڈ منٹ ایکٹ سے چونکہ پنجاب گورنمنٹ کو نستی ہے اور چونکہ یہ باور کرنے کے لیے معقول قرائن موجود ہیں کہ