سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 280
البر چیست صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ان کے ذریعہ خدا کی بیعت کی ہے۔وہ اپنی جان۔مال بعزت آبرو - اولاد - جائیداد - غرضیکہ ہر چیز خدا۔رسول اور اس کے نمائندوں کے لیے قربان کر چکا ہے اور اب کوئی چیز اس کی اپنی نہیں۔میں یہ کھول کر بتا دینا چاہتا ہوں کہ جس کے دل میں بیعت کے اس مفہوم کے متعلق ذرہ بھی شبہ ہے۔وہ اگر منافق کہلانا نہیں چاہتا تو وہ اب بھی بیعت کو چھوڑ دے جس بیعت میں نفاق ہو وہ کسی فائدہ کا رجب نہیں ہو سکتی بلکہ وہ ایک لعنت ہے جو اس کے گلے میں پڑی ہوتی ہے پس جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس نے میری بیعت کسی شرط کے ساتھ کی ہوئی ہے اور کوئی چیز اس کی اپنی باقی ہے اور اس کے لیے میری اطاعت مشروط ہے۔وہ میری بیعت میں نہیں۔اور میں آپ سب کے سامنے اور پھر اخباروں میں اس خطبہ کی اشاعت کے بعد ان لاکھوں لوگوں کو جو دنیا کے گوشہ گوشہ میں رہتے ہیں۔صاف صاف الفاظ میں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر کسی کے دل میں کوئی استثنے باقی ہے تو میں اسے اپنی بیعت میں نہیں سمجھتا۔میرا خدا گواہ ہے اور آپ لوگ جو سن رہے ہیں۔آپ بھی گواہ ہیں کہ میں نے یہ بات پہنچا دی ہے۔کیا پہنچا دی ہے (اس پر چاروں طرف سے آوازیں بلند ہوئیں کہ ہاں پہنچا دی ہے، میرا خُدا گواہ ہے اور آپ لوگ مقر ہیں کہ میں نے یہ بات پہنچا دی ہے کہ مشروط بیعت کوئی بیعت نہیں۔بیعت وہی ہے جس میں ہر چیز قربان کرنے کے لیے انسان تیار ہو ایپس میرا ہر حکم جو خدا تعالیٰ کے احکام کے ماتحت ہو اور جس کے خلاف کوئی نص صریح موجود نہ ہو اسے ماننا آپ کا فرض ہے۔جب اجتہاد کا معاملہ آجاتے تو وہی اجتہاد صحیح ہو گا جو میرا ہے اور اس میں ناز ما پا بندی کرنا آپ کا فرض ہے --- دوسری چیز یہ ہے کہ قرآن کریم میں جہاں خدا۔رسول اور اس کے نمائندوں کی اطاعت کا حکم ہے وہیں اولی الامر کی اطاعت بھی ضروری قرار دے دی گئی ہے۔اور ان کی اطاعت بھی ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے متواتر یہ تعلیم دی ہے۔آپ کی کوئی کتاب نہیں میں میں آپ نے یہ حکم نہ دیا ہو اور میں جسں قدم پر آپ لوگوں کو لے جانا چاہتا ہوں وہ ایسا جوش پیدا کر دینے والا ہے کہ کن ہے کسی کو حکومت کی اطاعت میں بھی کوئی شک پیدا ہو جاتے ہیں اگر کوئی اس سے آگے نکل جاتے یا شبہ کرے تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کرنے والا ہوگا۔اگر