سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 282 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 282

YAY تم مرزا بشیرالدین محمود احمد ساکن قادیان ضلع گورداسپور لوگوں کو قادیان بلا رہے ہو۔اس غرض سے کہ وہ مجلس احرار کے شعبہ تبلیغ کی اس کانفرنس پر جو کہ وہ ۲۱ لغایت ۲۳ راکتو بر یا اسکے قریب قادیان یا اس کے قرب و جوار میں کرنا چاہتے ہیں۔موجود ہوں اور چونکہ تمہارا ہے فعل امن عامہ میں خلل ڈالنے والا ہے۔اس لیے گورنمنٹ پنجاب تمہیں زیر دفعہ ۳ (۱) (ه) پنجاب کریمینل لا- امنڈمنٹ ایکٹ نہ ہدایت کرتی ہے کہ تم ایسے تمام دعوت ناموں کو جوان تاریخوں پر لوگوں کو قادیان بلانے کے لیے تم نے بھیجے ہیں یا تمہارے زیر کم بھیجے گئے ہیں منسوخ کردو - ۲۲ اکتو بر سر تک کسی شخص یا اشخاص کو قادیان بلانے کی غرض سے کوئی دعوت نامہ مت بھیجو - ۱۲۴ اکتوبر شاہ تک نہ کوئی جلسہ قادیان میں کرو نہ جلسہ کرنے میں محمد بنو - ۲۴۵ اکتوبر تک کسی ایسے شخص کا جس کو تم نے بلایا ہو قادیان میں استقبال کرنے یا اس کے لیے کھانے اور رہائش کا انتظام کرنے۔محترز رہو۔آج مورخہ ۱۷ اکتوبر شاہ کو میرے دستخط سے جاری ہوا۔دستخط گار بٹ چیف سیکریٹری گورنمنٹ پنجاب۔یہ قانون سالہ میں پاس کیا گیا ہے اور اس کی تمہید میں لکھا ہے کہ وہ سول نافرمانی اور حکومت برطانیہ کو تہ و بالا کر دینے والی تحریکات کو روکنے کے لیے ہے اور مجھے یہ حکم دے کر گویا حکومت نے یہ الزام لگایا ہے کہ میں سول نافرمانی کرنے والا یا حکومت برطانیہ کو تہ وبالا کرنے کی تحریک کرنے والا ہوں۔میں نے اس حکم کو پڑھتے ہی اس پر حسب ذیل جواب لکھ کر مجسٹریٹ کو دے دیا۔جواب : " مجھے گورنمنٹ کے حکم سے اطلاع ہوئی اور میں اپنے مذہب کے حکم اور سلسلہ کی روایات کی وجہ سے اس کی تعمیل کرنے پر مجبور ہوں ورنہ یہ حکم ایسا غیر منصفانہ اور نا جائز ہے کہ ایک شریف آدمی کے لیے یہ مجھنا بھی مشکل ہے کہ ایک مہذب حکومت الیسا حکم کس طرح جاری کر سکتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ میں نے اس فتنہ کو دیکھ کر کہ احرار قادیان میں ایک جلسہ کر رہے ہیں اور وہ علی الاعلان سلسلہ احمدیہ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ایک ہدایت دی تھی کہ جماعت احمدیہ کے کچھ لوگ سلسلہ کے مقدس مقامات کی حفاظت کیلئے جمع کر لیے جائیں لیکن اس ہدایت کے جاری کرنے کے دو گھنٹہ بعد مرزا معراج الدین صاحب سپرنٹنڈنٹ سی۔آئی۔ڈی