سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 269 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 269

جماعت احمدیہ کی نظم اجتماعی خافت جرمنی کے نازی لیڈر ہٹلر- گوئیلز وغیرہ اور کمیونزم کی اشاعت کے ذمہ داروں نے جھوٹ گھڑنے۔جھوٹ بولنے۔جھوٹ پھیلانے کے ریکارڈ ضرور قائم کئے اور اس غرض کے لیے نت نئے طریق دریافت کئے مگر انہوں نے خدا اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وستم کا مقدس نام اپنی دنیوی ذلیل اغراض کے لیے کبھی استعمال نہیں کیا تھا۔یہ اعزانہ ہمارے ہاں کے بعض نام نهاد علماء (علما شھم ) کے حصہ میں آتا ہے۔جنہوں نے مذہب کے نام پر رحمتہ للعالمین کے نام پر اس بے دردی و ظالمانہ طریق سے جھوٹ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا کہ صاحب جوامع الکلم کے ارشاد " شر من تحت ادیم السماء " کے سوا اور کوئی ذریعہ اس کے بیان واظہار کا نہیں ہو سکتا۔مجلس احرار۔آل انڈیا کانگریس (جو مسلمانوں کی حق تلفی اور قیام پاکستان کی مخالفت پر قائم تھی ) کی معنوی اولاد ہے۔کانگریسی قیادت کی مسلم دشمنی کوئی سربستہ راز نہیں ہے۔پاکستان کے قیام کی بنیاد دو قومی نظریہ کو دقیانوسی خیال قرار دیتے ہوئے پنڈت جواہر لال نہرو اپنی کتاب میری کہانی میں لکھتے ہیں :- " ایسے لوگ ابھی زندہ ہیں جو ہند و مسلمانوں کا ذکر اس طور پر کرتے ہیں گویا دوملتوں اور قوموں کے بارہ میں گفتگو ہے۔جدید دنیا میں اس دقیانوسی خیال کی گنجائش نہیں " تحریک پاکستان اور نیشنلسٹ علما صا ) کانگریس کے ایک اور بہت بڑے لیڈر جو کسی طرح بھی پنڈت نہرو سے کم درجہ نہ رکھتے تھے اور ند با مسلمان تھے۔دو قومی نظریہ کے خلاف ہندوستانی قوم کو ایک قرار دیتے ہوئے یہ باور کروانے کی کوشش میں رہے کہ اس امر پر تو قسمت کی مہر لگ چکی ہے۔لکھتے ہیں : - ہماری ایک ہزار برس کی مشترک زندگی نے ایک متحدہ قومیت کا سانچہ ڈھال