سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 223 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 223

۲۲۳ اس خطہ کا ترجمہ یہ ہے :- ”ہز ایکسی لینسی حضور وائسرائے نے فرمایا ہے کہ میں آپ کے خط مورخہ سے نومبر ہ کا شکریہ ادا کروں۔ہر کیسی کیسی کو اس بات کے معلوم ہونے پر افسوس ہوا کہ آپ اُن کے پہلے جواب کو نائکستی بخش خیال فرماتے ہیں۔اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ جو آپ نے اور آپ کی جماعت نے کشمیر میں امن کی خاطر کوششیں فرماتی ہیں ان کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا اور یہ کہ حکومت ہند نے اُس کی طرف توجہ نہیں فرمائی ہز ایکسی لینسی کو یقین ہے کہ اس کا باعث کوئی غلط فہمی ہے۔کیونکہ اُن کا ہرگز کبھی یہ ارادہ نہیں ہوا کہ آپ کی اور آپ کی جماعت کی اس وفا دارانہ امداد کو جو آپ ہمیشہ حکومت کی کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔کسی طرح استخفاف کی نظر سے دیکھا جاتے، لیکن آپ اس بات کو تسلیم فرمائیں گے کہ حکومت کے لیے یہ بات عملاً ناممکن ہے کہ کسی ہندوستانی ریاست پر یہ زور دے کہ وہ کسی بیرونی کمیٹی کے ساتھ معاملہ کرے خواہ وہ کمیٹی ہی نیک نیت اور نمائندہ حیثیت رکھتی ہو اور اگر والی ریاست ایسا چاہے تو اس صورت میں ضروری ہے کہ اسبارہ میں براہ راست حکومت ہند کیسا تھ گفت و شنید کی جائے۔حضور وائسرائے نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میں آپ کو یقین دلاؤں کہ انہوں نے شروع سے ہی سوال کشمیر پر پورے فکر اور ہمدردی کے ساتھ غور کیا ہے اور انہوں نے موجودہ مشکلات کے تسلی بخش اور پرامن حل کا ذریعہ نکالنے میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہیں رکھا۔حضور وائسرائے آخری آدمی ہوں گے جو یہ کہیں کہ حکومت نے جو کچھ کیا ہے وہ بالکل درست ہے یا یہ کہ وہ صحیح وقت کیا گیا ہے ، لیکن وہ یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ جو کچھ کیا گیا ہے اس کا واحد مقصد یہی تھا کہ مہا راجہ صاحب اور ان کی مسلمان رعایا کے مابین جلد سے جلد اور تسلی بخش تصفیہ ہو جاتے اور انہیں امید ہے کہ اس معاملہ میں انکی کوششیں جلد ہی نتیجہ پیدا کریں گی۔اور یہ کہ مسلمانان کشمیر میں پھر اعتماد پیدا ہو جائیگا۔حضور وائسرائے فرماتے ہیں کہ میں آپ کا شکر یہ ادا کروں کہ آپ نے نہایت صفائی سے اپنے خیالات اور آرام کو ظاہر فرما دیا ہے۔اور یہ اُن کے لیے ایک مشکل سوال کے صحیح طور پر سمجھنے اور اس کے حل کرنے میں بہت مفید اور قیمتی ثابت ہوگا۔ہز ایکسی لینسی کو یقین ہے کہ وہ آپ پر اور آل انڈیا کشمیر کیٹی کے دوسرے ممبروں پر