سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 246
۲۴۶ شار ہونے کے لیے ہر وقت موجود رہے تین پھر حضور کو بھی لگے جبکہ دوسرے متعدد افراد زخمی ہوئے اس فساد انگیزی اور ہنگامہ آرائی کے دوران حضور نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں فرمایا :- جوش کی باتیں عارضی ہوتی ہیں دُنیا میں جو شخص کام کرنے کے لیے کھڑا ہو آج جو اسے پتھر مارتے ہیں کل کو ضرور وہی اس پر پھول برسائیں گے۔جون آف آرک ایک فرانسیسی عورت تھی جس نے اپنے ملک کو آزاد کرایا تھا اس کو اپنے زمانے میں اس قدر تکلیف دی گئی کہ خود اس کے ابنائے وطن نے اسے پکڑ کر انگریزوں کے حوالہ کر دیا۔۔۔۔۔تو جو لوگ دوسروں کی خاطر پتھر کھاتے ہیں ان پر ضرور پھول برستے ہیں یہ جو پتھر آج پھینکے گئے ہیں۔۔۔۔یہ خدا تعالی نے اس لیے پھینکواتے ہیں کہ کل کو پھول بن کہ ہمیں لگیں۔۔۔۔یہ پھر بھی جن لوگوں نے مارے ہیں انہوں نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ کشمیر کی طرف سے مارے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ ریاست نے علاقہ پر رعایا کو قبضہ دے دیا ہے۔سو اللہ کے فضل سے ہم امید کرتے ہیں وہ مظلوم جو سینکڑوں سال سے ظلم وستم کا شکار ہو رہے ہیں ان کی آہیں اور سسکیاں آسمان پر جا پہنچیں اور خدا تعالیٰ نے ظالموں سے ظلم کی آخری اینٹیں پھینکوائیں تا اس ملک پر اپنا فضل نازل کرے۔۔۔لیکن ہمارا قلب وسیع ہے ہم ان ہاتھوں کو جنہوں نے یہ تھر برساتے ان زبانوں کو جنہوں نے اس کے لیے تحریک کی اور اس کنجی کو جو اس کا باعث ہوئی معاف کرتے ہیں کیونکہ جس کام کا ہم نے بیڑا اٹھایا ہے اس کے مقابلہ میں تیری کلیف جو ہمیں پہنچائی گئی ہے بالکل معمولی ہے " ) الفضل ۲۴ ستمبر است ) حضور کے استقلال و عزیمت اور جماعت کے جذبہ قربانی کا یہ ایسا مظاہرہ تھا جسے مخالفوں کے حلقہ میں بھی بہت سراہا گیا اور جس کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی۔ایک روایت کے مطابق ان پتھروں کو جو مخالفین نے حضور کو مارے تھے خدائی نشان کے اظہا را اور کشمیر کی آزادی کا سنگ بنیاد سمجھتے ہوئے دو ٹرنکوں میں ڈال کر حضور اپنے ساتھ قادیان لے گئے تھے۔کشمیر کمیٹی کو بخوبی معلوم تھا کہ ریاست کے حکام قدم قدم پر ان کے لیے مشکلات پیدا کریں گے۔اس لیے اس کام کا آغاز جس طریق پر ہوا اس کا دلچسپ تذکرہ حضرت مصلح موعود کے الفاظ میں درج ذیل ہے۔حضور کے اس بیان سے شیر کشمیر، شیخ محمد عبداللہ کی سیاسی زندگی کے آغاز پر بھی روشنی