سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 207
۲۰۷ انسانیت کا سوال ہے اس قسم کی بمباری کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ہمیشہ سے جنگیں ہوتی چلی آتی ہیں اور ہمیشہ سے عداوتیں بھی رہی ہیں لیکن با وجود ان عداوتوں کے اور با وجود ان جنگوں کے ایک حد بندی بھی مقرر کی گئی تھی جس سے تجاوز نہیں کیا جاتا تھا۔لیکن اب کوئی حد بندی نہیں رہی کون کر سکتا ہے کہ وہ شہر جس پر اس قسم کی بمباری کی گئی ہے وہاں عورتیں اور بچے نہیں رہتے تھے کون کہہ سکتا ہے کہ لڑائی کی ذمہ داری میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔اگر جوان عورتوں کو شامل بھی سمجھا جائے تو کم از کم موقت پہلے کے لڑکے اور لڑکیاں لڑائی کے کبھی بھی ذمہ وار نہیں سمجھے جاسکتے ہیں گو ہماری آواز بالکل بیکار ہو لیکن ہمارا مذہبی اور اخلاقی فرض ہے کہ ہم دنیا کے سامنے اعلان کر دیں کہ ہم اس قسم کی خونریزی کو جائز نہیں سمجھتے۔خواہ حکومتوں کو ہمارا یہ اعلان بُرا لگے یا اچھا۔" اسی سلسلہ میں حضور نے مزید فرمایا کہ : : " میرا مذہبی فرض ہے کہ میں اس کے متعلق اعلان کر دوں۔گو حکومت اسے برا سمجھے گی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ امن کے رستے میں یہ خطرناک روگ ہے۔اس لیے میں نے بیان کر دیا ہے کہ ہمیں دشمن کے خلاف ایسے مہلک حربے استعمال نہیں کرنے چاہئیں جو اس قسم کی تباہی لانے والے ہوں۔ہمیں صرف وہی حربے استعمال کرنے چاہئیں جو جنگ کے لیے ضروری ہوں لیکن ایسے حربوں کو ترقی دینا اور ایسے حربوں کو استعمال کرنا جن سے عورتوں بچوں اور ان لوگوں کو جن کا جنگ کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں تکلیف پہنچے۔ہمارے لیے جائز نہیں اور ہمارا فرض ہے کہ خواہ ہماری آواز میں اثر ہو یا نہ ہو حکومت سے کہ دیں کہ ہم آپ کی خیر خواہی کے جذبے کی وجہ سے مجبور ہیں کہ اس امر کا اظہار کر دیں کہ ہم آپ کے اس فعل سے متفق نہیں اور مجبور ہیں کہ آپ کو ایسا مشورہ دیں جس کے نتیجہ میںآئندہ جنگیں اور فتنے بند ہو جائیں۔" الفضل ۱۶ اگست ۹۴۵ ه ) قیام امن کے متعلق قرآنی رہنمائی: ایٹمی حملہ کے خلاف اس زبر دست اعلان حق کے علاوہ آپ نے مستقل قیام امن کے متعلق قرآن مجید سے مستنبط رہنما اصول بیان کرتے ہوئے فرمایا : یاد رکھو وہ دن قریب ترین آتے جاتے ہیں جب دنیا کی کسی فیصلہ پر پہنچنے کی