سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 208
۲۰۸ کوشش کرے گی۔اس وقت فاتح مغربی اقوام کے دماغ اس امر کی طرف مائل ہورہے ہیں کہ وہ جنگ کے بعد مفتوح قوموں کو بالکل کچل کر رکھ دیں اور ان کو ابتدائی انسانی حقوق سے بھی محروم کر دیں۔گویا پرانے زمانہ میں جس غلامی کا دنیا میں رواج تھا اسی غلامی کو بلکہ اس سے بدتر غلامی کو وہ اب پھر دنیا میں رائج کرنا چاہتی ہیں۔اور ان اقوام میں سے بعض سرکردہ لوگ اس امر کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ پرانے زمانہ کے غلاموں سے بھی بدترین سلوک جرمنی اور جاپان کے ساتھ کریں۔دوسرے الفاظ میں یوں سمجھ لوکہ جیسے ابتدائی ایام میں آرین اقوام نے ہندوستان کی دیگر اقوام سے سلوک کیا تھا اور انہوں نے ان اقوام کے لیے بعض خاص پیشے مقرر کر دیتے تھے۔۔۔اس طرح آج انگلستان اور امریکہ کے بعض اکابرین کی طرف سے یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ جنگ کے بعد جرمنی اور جاپان دونوں کے لیے بعض پیشے مقرر کر دیئے جائیں گے اور فیصلہ کر دیا جائے گا کہ وہ ان مخصوص پیشوں کے علاوہ اور کوئی پیشہ اختیار نہیں کر سکتے۔یہ چیزیں جب ظاہر ہوتی ہیں اس وقت طبائع قدرتی طور پر فیصلہ کی طرف مائل ہوتی ہیں اور وہ اس نتیجہ پر پہنچتی ہیں کہ موجودہ نظام کے علاوہ کوئی اور نظام دنیا میں رائج ہونا چاہتے جو کمزور کی حق تلفی نہ کرے اور طاقتور کو ناجائز حقوق نہ دے۔پس اگر جنگ کے بعد مفتوح اقوام سے اسی قسم کا وحشیانہ سلوک کیا گیا جس قسم کا وحشیانہ سلوک اچھوت اقوام سے کیا گیا تھا۔تو یہ لازمی بات ہے کہ یورپ میں بھی اور امریکہ میں بھی اور جاپان میں بھی اور جرمنی میں بھی دنیا کے موجودہ نظام کے خلاف آوازیں اٹھنی شروع ہو جاتیں گی۔طبائع میں ایک ہیجان پیدا ہو جاتے گا۔اور لوگوں کے اندر یہ احساس پیدا ہونا شروع ہو گا کہ موجودہ نظام تسلی بخش نہیں۔اور وہی وقت ہو گا جب گرم گرم لوہے پر چوٹ لگا کر اسے اسلام کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق ڈھالا جاسکے گا۔دیکھو قرآن کریم نے لیگ آف نیشنز (LEAGUE OF NATIONS) کے بعض اصول بیان کئے ہیں اور وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ جب تک ان اصول پر لیگ آف نیشنر کی بنیاد نہیں رکھی جائے گی اس وقت تک دنیا میں کبھی امن قائم نہیں ہو سکیگا میں نے سہ میں اپنی کتاب "احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں ان اصول کو قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں بیان کیا تھا۔اسی طرح جب میں ولایت گیا تو وہاں مختلف لیکچروں میں